معروف شاعر حماد احمد کے نئے مجموعہ کلام ‘ یہ محبت میرا حوالہ ہے ‘ نے دھوم مچا دی
اردو شاعری کی دنیا میں بعض کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں بلکہ اپنے عہد کے جذبات، احساسات اور انسانی تجربات کی ایسی ترجمان بن کر سامنے آتی ہیں جنہیں پڑھنے والا اپنے دل کی آواز محسوس کرنے لگتا ہے۔ معروف شاعر حماد احمد کا نیا مجموعۂ کلام ’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ بھی ایک ایسی ہی دل نشیں اور قابلِ توجہ ادبی پیشکش ہے، جس نے شاعری سے محبت رکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ عنوان ہی اپنے اندر محبت کی ایک مکمل داستان سمیٹے ہوئے ہے۔ ’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ صرف چند الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک شاعر کی شناخت، اس کے احساس، اس کی فکر اور اس کے زندگی سے تعلق کا خوب صورت اظہار ہے۔
محبت انسانی زندگی کا سب سے قدیم اور طاقت ور جذبہ ہے۔ یہی محبت کبھی ماں کی دعا بن جاتی ہے، کبھی دوست کی وفا، کبھی محبوب کی یاد، کبھی وطن سے تعلق اور کبھی انسانیت کے لیے بے لوث جذبہ۔ شاعری نے ہمیشہ محبت کو اپنے اظہار کا سب سے خوب صورت وسیلہ بنایا ہے، مگر ہر شاعر محبت کو اپنے منفرد انداز میں محسوس اور بیان کرتا ہے۔ حماد احمد کی شاعری میں بھی محبت ایک وسیع معنوی دنیا کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ان کے ہاں محبت صرف رومانوی کیفیت نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے، محسوس کرنے اور بہتر بنانے کا ایک حوالہ بھی ہے۔
’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ اپنے عنوان سے ہی قاری کو ایک جذباتی اور فکری سفر کی دعوت دیتا ہے۔ ایسا سفر جس میں یادیں بھی ہیں، خواب بھی، انتظار بھی، وصل کی خوشبو بھی اور ہجر کی اداسی بھی۔ شاعر کے لفظوں میں انسانی دل کی وہ کیفیت جھلکتی ہے جسے ہر حساس انسان کسی نہ کسی مرحلے پر ضرور محسوس کرتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو اچھی شاعری کو محض الفاظ کی ترتیب سے بلند کر کے ایک زندہ تجربہ بنا دیتی ہے۔
حماد احمد کا شعری لہجہ اپنے اندر سادگی اور تاثیر کا ایک خوب صورت امتزاج رکھتا ہے۔ وہ پیچیدہ جذبات کو ایسے لفظوں میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو دل تک براہِ راست پہنچیں۔ ان کی شاعری میں لفظوں کی چمک کے ساتھ احساس کی گہرائی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار صرف پڑھے نہیں جاتے بلکہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ ایک اچھا شاعر وہی ہوتا ہے جو اپنے ذاتی دکھ کو اجتماعی احساس بنا دے اور اپنی خوشی میں دوسروں کے دلوں کی دھڑکن شامل کر دے۔ ’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ اسی انسانی اور جذباتی رشتے کی نمائندگی کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اردو ادب کی عظیم روایت میں شاعری ہمیشہ انسان کے باطن کی ترجمانی کرتی رہی ہے۔ میر سے غالب تک، فیض سے فراز تک اور جدید عہد کے شعرا تک، محبت، جدائی، امید، خواب اور زندگی کے سوالات شاعری کا بنیادی موضوع رہے ہیں۔ ہر عہد نے ان جذبات کو اپنے انداز میں بیان کیا۔ آج کے تیز رفتار اور مصروف دور میں بھی انسان کے اندر محبت کی ضرورت کم نہیں ہوئی، بلکہ شاید پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایسے وقت میں ’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ جیسے عنوان کے ساتھ سامنے آنے والا مجموعۂ کلام ایک نرم، خوب صورت اور انسانی احساس کی یاد دلاتا ہے۔
حماد احمد کی شاعری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں صرف جذباتی اظہار ہی نہیں بلکہ زندگی کے مختلف رنگوں کو محسوس کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ محبت کے ساتھ ساتھ انسان کے اندر موجود تنہائی، بے یقینی، امید، انتظار اور خوابوں کی دنیا بھی شاعری کو مکمل بناتی ہے۔ ایک شاعر اپنے گرد و پیش سے الگ نہیں ہوتا۔ وہ معاشرے کو دیکھتا ہے، انسانوں کے دکھ کو محسوس کرتا ہے، رشتوں کے بدلتے رنگوں کو سمجھتا ہے اور پھر ان تمام تجربات کو لفظوں کا لباس پہناتا ہے۔
’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ کا سب سے دل کش پہلو شاید یہی ہے کہ اس کا عنوان خود ایک مکمل شعری اعلان ہے۔ گویا شاعر دنیا سے کہہ رہا ہو کہ اگر مجھے پہچاننا ہے تو میرے اندر موجود محبت کو پہچانو۔ اگر میری شناخت تلاش کرنی ہے تو میرے احساسات میں تلاش کرو۔ اگر میرے لفظوں کا مطلب جاننا ہے تو میرے دل کی دھڑکن سنو۔ یہ تصور نہایت شاعرانہ بھی ہے اور انسانی بھی۔
کسی بھی نئے مجموعۂ کلام کی کامیابی کا تعلق صرف اس کی اشاعت سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے قارئین کے دلوں میں کس حد تک جگہ بناتا ہے۔ جب ایک کتاب ادبی حلقوں میں گفتگو کا موضوع بن جائے، جب اس کے عنوان اور شاعر کے اندازِ بیان پر بات ہونے لگے اور جب قارئین اس کے صفحات میں اپنے جذبات کی جھلک دیکھنے لگیں تو یہ کسی بھی شاعر کے لیے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ حماد احمد کے نئے مجموعۂ کلام ’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ کی پذیرائی بھی اس بات کی علامت ہے کہ اردو شاعری سے محبت کرنے والے قارئین آج بھی اچھے اور سچے لفظوں کی تلاش میں ہیں۔
یہ کتاب نوجوان نسل کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ نئی نسل کے جذبات، تعلقات اور زندگی کے تجربات مسلسل بدل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور تیز رفتار زندگی کے باوجود انسان کو آج بھی ایسے الفاظ کی ضرورت ہے جو اسے رکنے، سوچنے اور اپنے دل سے بات کرنے کا موقع دیں۔ شاعری یہی کام کرتی ہے۔ وہ انسان کو اس کے اندر واپس لے جاتی ہے۔
’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ دراصل محبت کے نام ایک ایسا ادبی سفر ہے جس میں لفظ خوشبو بن جاتے ہیں، احساس آواز بن جاتا ہے اور خاموشی بھی ایک مکمل گفتگو محسوس ہوتی ہے۔ حماد احمد نے اپنے شعری سفر کے ذریعے محبت کو ایک ایسی شناخت کے طور پر پیش کیا ہے جو زمانے کے بدلتے رویوں کے باوجود ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’یہ محبت میرا حوالہ ہے‘‘ صرف ایک مجموعۂ کلام نہیں بلکہ احساسات کی ایک دنیا ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو محبت کو صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ زندگی کی سب سے بڑی سچائی سمجھتے ہیں۔ حماد احمد کا یہ نیا شعری مجموعہ اردو شاعری کے قارئین کے لیے یقیناً ایک خوب صورت اضافہ ہے، اور اس کی گونج اس بات کا ثبوت ہے کہ جب لفظوں میں سچائی اور دل میں محبت ہو تو شاعری اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔
حماد احمد کا حوالہ محبت ہے، اور شاید یہی محبت ان کی شاعری کا سب سے خوب صورت تعارف بھی ہے۔
اہل ذوق کی نظر پی ڈی ایف حاضر ہے: Ye Muhabbat Mera Hawala Hai

اپنی رائے کا اظہار کریں