More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس

پاکستان کے لیے کھیلنے والے بہت مگر پاکستان سے کھیلنے والے کب ملیں گے ؟

پاکستان کے لیے کھیلنے والے بہت مگر پاکستان سے کھیلنے والے کب ملیں گے ؟

پھر وہ ہی ہوا جو اکثر و بیشتر پاکستان کرکٹ ٹیم کے چاہنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔شائقین کرکٹ کو ایک دفعہ پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا کے ہاتھوں ہار کا صدمہ اور غم برداشت کرنا پڑا اور مجھ جیسے لوگ آسٹریلیا کے خلاف وائٹ واش کے بعد صرف اتنا ہی کہ سکے “چلو مٹی پاؤ “کیونکہ جس طرح کی ٹیم کا انتخاب کیا گیا تھا اس ٹیم سے اسی کارکردگی کی امید تھی۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیم سلیکشن میں عابد علی اور سعد علی کو دیکھ کر ایسا لگا کہ ان لڑکوں کی محنت کی بجانے صرف اور صرف کسی مجبوری اور خالی جگہ پر کرنے کے لیے ( جس میں میڈیا اور شوشل میڈیا کا دباؤ بھی شامل تھا) ٹیم میں منتخب کیا گیا ہے اور اگر انضمام الحق اینڈ کمپنی کے بس میں ہوتا تو ابھی بھی ان کا انتخاب نا کیا جاتا اس کو انضمام الحق اینڈ کمپنی کی بدقسمتی کہیں یا عابد علی کی خوش قسمتی کہیں کہ انہوں نے اپنے پہلے ہی ون ڈے میں سینچری بنا دی اور وہ سلیم الہی اور امام الحق کے بعد پاکستان کے تیسرے کھلاڑی بن گئے جہنوں نے اپنے پہلے ہی ون ڈے میچ میں سینچری بنائی ہے۔ عابد علی کی اس پرفارمنس کے بعد دل نے بےاختیار کہا کہ کاش عابد علی عابد الحق ہوتا تو یہ پاکستان کے لیے بہت پہلے ٹیم میں منتخب ہو چکا ہوتا۔عابد علی کے علاوہ اگر کوئی اور کھلاڑی اس سیریز میں اچھا کھیلا تو میرے نزدیک وہ محمد رضوان ہیں جبکہ باقی تمام کھلاڑی اپنے لیے کھیلتے نظر آئے چاہے پھر وہ حارث سہیل ہوں یا کوئی اور ۔۔۔جس انداز سے کچھ پاکستانی کھلاڑیوں نے بلے بازی کی اس سے صاف نظر آیا کہ وہ پاکستان کے لیے کم اور اپنے لیے زیادہ کھیل رہے ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی اس وقت میرے نزدیک صرف اور صرف سیر سپاٹے کرنے اور وقت گزارنے میں مصروف ہےاور کچھ بھی نہیں کر رہی۔کیا ہی اچھا ہوتا ورلڈکپ میں جانے سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف بھرپور انداز میں مقابلہ کیا جاتا اور اپنی خامیوں کو دیکھاجاتا
آسٹریلیا کے خلاف بہت سے کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کے لیے آرام کی غرض سے اور بہت زیادہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا مگر ان سے بہت سے کھلاڑی گوجرانوالہ میں ہونے والی ایک مقامی لیگ میں حصہ لیتے اور کھیلتے ہوئے نظر آئے جن میں حسن علی اور شاداب خان بھی شامل تھے ۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے ک اگر ان کھلاڑیوں نے مقامی لیگز میں ہی حصہ لینا تھا تو پھر ان کو پاکستان کی ٹیم میں شامل کیوں نہیں کیا۔ اگر اس دوران ان میں سے کوئی کھلاڑی زخمی ہو جاتا تو کون اس کا ذمہ دار ہوتا؟ اور کیا پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کو کھیلنے کی اجازت دی یا نہیں؟ اگر اجازت دی تو پاکستان سے پہلے یہ مقامی لیگ کیسے ہو گئ؟
دنیا کی ہر کرکٹ ٹیم ولڈکپ کے ختم ہوتے ساتھ ہی اگلے ولڈکپ کی تیاری کرنا شروع کر دیتی ہے اور پھر ان کھلاڑیوں پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے جن کے بارے میں ان کو ایک فیصد بھی خیال ہو کہ یہ اگلے ولڈکپ میں ان کی ٹیم کا حصہ ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اگر اس دوران کوئی نیا کھلاڑی سامنے آئے تو اس کو بھی بھرپور موقع دیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی کارکردگی سے ارباب اختیار کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔جبکہ دوسری طرف اگر ہم پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی بات کریں تو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ولڈکپ میں دو ماہ سے کم کا عرصہ باقی رہ جانے کے باوجود ابھی تک ممکنہ 16 سے 20 کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں ہو سکا اور ابھی بھی ٹیم منیجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی تجربات کرنے میں مصروف ہے۔ سب سے حیران کن بات تو یہ کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ اور دوسری منیجمنٹ میڈیا میں آ کر بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس ابھی ایک باؤلر کی جگہ خالی ہے ابھی ایک بیٹسمین کی جگہ خالی ہے وغیرہ وغیرہ گویا یہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم نہ ہوئی کسی دفتر کی نوکری ہو گی جس کے لیے ابھی بھی امیدوار درکار ہیں۔انضمام الحق صاحب جتنا وقت ٹیم کے ساتھ دورے کرنے پر گزارتے ہیں کاش اس کا آدھا حصہ وہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں ہونے والے میچز دیکھنے پر دیں تو اس وقت پاکستان کو ورلڈ کپ کے لیے ٹیم منتخب کرنے میں اتنی دشواری نا ہو مگر کیا کریں اب اپنے زمانے کا اتنا بڑا کھلاڑی اور موجودہ چیف سلیکٹر یہ چھوٹے موٹے میچز دیکھنے جاتا ہوا اچھا تو نہیں لگتا نا؟ ۔ انضمام الحق اور سلیکشن کمیٹی کا جو کام ہے اگر وہ اس پر توجہ دیں تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے اچھا ہو گام ویسے اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر بہت کم ہی کھلاڑی آتے ہیں اگر ڈومیسٹک کرکٹ ہی ٹیم میں منتخب ہونے کا پیمانہ ہوتی تو اعزاز چیمہ اور فواد عالم جیسے کھلاڑی اس وقت پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں کھیل رہے ہوتے یوں ہر سیزن میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود ٹیم سے باہر نا ہوتے۔
اگر پاکستان کی سلیکشن کمیٹی ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو عزت نہیں دے گی اور پاکستان کی ٹیم کا انتخاب صرف اور صرف ذاتی پسند نا پسند پر ہو گا تو پھر ہمیں پاکستان کے لیے کھیلنے والے کم اور پاکستان سے کھیلنے والے زیادہ ملیں گے۔

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں