More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس

شاہد آفریدی کو گلی سے کلب پہنچانے والے کی ڈائری سے

شاہد آفریدی کو گلی سے کلب پہنچانے والے کی ڈائری سے
آفتاب تابی
آفتاب تابی

کچھ دنوں پہلے مجھے میرے دوست آفتاب احمد تابی نے مجھ سے اپنی ویب سائیٹ تابی لیکس کے لیے  کچھ لکھنے کے لئے کہا لیکن میں نے وعدہ کر لیا اپنی ڈائری میں سے دونگا

قصہ اس طرح کہ کرکٹ کے( off season ) میں کلب کی پریکٹس کیا کرتے تھے میں اپنے گھر سے پریکٹس کیلئے نکلا کیونکہ شاداب گراونڈ گھر کے قریب ہی تھا میرے گھر سے چار گھر چھوڑ دو بچے اپنے گھر کے باہر کر کٹ کھیل رہے تھے جو بیٹنگ کر رہا تھا میں نے اس سے بیٹ لیے کر ایک بال کھلنے کی درخواست کی اس بچے نے (wide ) کی جب میں بیٹ واپس کرنے لگا اس نے مجھے اپنی( ball) کھیلنے کو کہا. میں یہ اس بچے کی کر کٹ کا آغاز کہوں گا. پہلی( ball ) کھیلنے کے بعد اس کی بال اتنی اچھی جگہ گری اتنے چھوٹے بچے کی بال وہ بھی (Tennis) بال تھوڑا حیران ہوا اور اس کو ایک اور بال کرنے کیلئے کہا،،، اس کی دوسری بال بھی پہلی بال کی اچھی جگہ گری وہ بھی( leg spin ) مجھے اس بچے کی بولینگ میں ( talent ) نظر آیا میں آج مجھے اس کی وہ بات یاد آ تی ہیں کہ میری بال کھیلے اگر وہ اپنی بال کھیلنے کے لئے نہیں کہتا یا پھر میں اس کی بال نہ کھیلتا تو میں اس کا( talent) نہ دیکھ پاتا . میں نے اس چھوٹے بچے کو کلب کی پریکٹس پر آنے کیلئے کہا وہ پریشان ہو گیا

اس کا بڑا بھائی ہمارے کلب میں کھیلتا تھا کیونکہ ان کے گھروں میں صرف شلوار قمیض پہنی جاتی تھی اس مجھے کہا میرے پاس کٹ نہیں ہے تو میں نے کہا تمہارے بھائی کو دے دونگا .پھر اس طرح وہ بچہ پریکٹس پر آنا شروع ہو گیا میں اس وقت سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ (world) کا اتنا بڑا نام بنے گا ایک مہینے کی پریکٹس کے بعد میں نے اپنے کلب کے سرپرست کاشف بھائی کو بچے کا کارڈ بنانے کا مطالبہ کیا اس نے اور پوری ٹیم کے کھلاڑیوں نے کہا کیا محمود بھائی گلی سے بچوں کو لے آتے ہو اور کہتے ہو اس کا کارڈ بناو اکثر اوقات میچز میں پلیئر نہیں آتے تھے اس لئے ان کو اس مجبوری کی وجہ سے کارڈ بنوانا پڑا اور اس طرح اس بچے کا کارڈ بن گیا اور اس کی کرکٹ کا آغاز ہو گیا ،،،،میرے خیال میں اس کا وہ کہنا کہ آپ میری بال کھیلے ہی نے دنیا کی کرکٹ کا ایک بڑانام بنایا. پھر ایک دن میں بازار میں گھر والوں کا کار میں انتظار کر رہا تھا ایک دوکان پر ٹی وی بلیٹن چل رہی تھی بہت لوگ جمع تھے میں بھی دیکھنے چلا گیا دہکھ وہ بچہ چھکے لگا رہا ہے اس کے ان چھکوں مجھے محمود، قادر جان اور نورولقمر کے چھکوں کی جھلک ؛دیکھنے کو ملی پھر وہ دنیا میں ایک بہت بڑا نام بنا آج دنیا بھر میں اس کو شاہد خان آفریدی کے نام سے جانا جاتا ہے

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں

adds

متعلقہ خبریں