More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس

یہ کبھی سوچا نہ تھا

یہ کبھی سوچا نہ تھا
آفتاب تابی
آفتاب تابی

دنیا کا یہ دستور ہے کہ گھر کا بڑا ہمیشہ چھوٹے کو سیکھاتا ہے اور اگر نہیں سکھایا جاتا تو چھوٹے خود ہی وہ سب چیزیں سیکھ لیتے ہیں جو ان کے بڑوں میں پائی جاتی ہیں کچھ ایسا ہی آج کل پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی ہے
پہلے ہم پاکستانی اچھے میزبان کے طور پر جانے جاتے تھے مگر انگلینڈ کی کمزور ٹیم کے ہاتھوں شکست کے بعد یقینا لوگ اب ہمیں اچھے مہمان کے طور پر بھی یاد رکھیں گے کووڈ 19 کی وجہ سے ابتدائی طور پر پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں حصہ لینے والی انگلینڈ کی پوری ٹیم پہلے ون ڈے سے صرف دو روز پہلے تبدیل ہوئی تو مجھ جیسے کرکٹ کا کم علم رکھنے والے انسان نے سوچا یہ تو انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی طرف سے صرف ایک خانہ پوری کی گئ ہے کہاں ہماری سپر اسٹارز سے بھری ہوئی ٹیم اور کہاں انگلینڈ کی یہ کمزور اور نا تجربہ کار ٹیم ان کا تو مقابلہ ہی کچھ نہیں پاکستان تو ان کو برے طریقے سے شکست دے گا اور دل ہی دل میں پاکستانی کپتان کو سیریز کی ٹرافی اٹھائے ہوئے بھی سوچ لیا مگر انگلینڈ کی اس کمزور ٹیم نے سب خوابوں کو مٹی میں ملا دیا کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاکستان کو اتنی بری شکست کا سامنا کرنا پڑے گا ویسے پاکستان کی شکست کا سوچا تب بھی نہیں تھا جب سری لنکا کی کمزور ترین ٹیم نے پاکستان کو پاکستان میں شکست دی تھی اور نا ہی کھبی یہ سوچا تھا کہ زمبابوے جیسی کمزور ٹیم پاکستان کو پاکستان میں اور پھر زمبابوے میں بھی شکست دے گی دل کے کسی کونے میں ایک خدشہ تو تھا کہ پاکستان کی ٹیم ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے اور پھر وہ ہی ہوا جس کا خدشہ تھا انگلینڈ کی کمزور ٹیم نے پاکستان کی سپر اسٹارز سے بھری ہوئی ٹیم کو وائٹ واش کر دیا ویسے اس طرح پاکستان کے وائٹ واش ہونے پر سابق کپتان راشد لطیف کے یہ الفاظ یاد آ گئے کہ ” کرکٹ بھی کیا کھیل ہے جس میں منہ کالا کروانے کو وائٹ واش کہتے ہیں ”
لگتا پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے اپنی غلطیوں سے نا سیکھنے کی قسم کھا رکھی ہے
آج بھارت کی ٹیم ایک وقت میں دو بڑی ٹیموں کے ساتھ مختلف ممالک میں کھیل رہی ہے جب کہ انگلینڈ کی دو دن میں تیار کی گئی ٹیم نے پاکستان کی ٹیم کو ون ڈے سیریز میں تین صفر کی عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ہے مگر پاکستان کی ٹیم کا ابھی تک اتنے سالوں سے کمبینیشن ہی نہیں بن سکا
ہر ٹیم میں ہر ایک کھلاڑی کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے بیٹنگ میں بلے باز اپنا کردار نبھائیں اور گیند بازی میں گیند باز اپنا کردار نبھانا نا بھولیں تو پھر ہی ایک اچھی اور متوازن ٹیم تشکیل دی جا سکتی ہے مگر ہمارے ہاں صرف ایک یا دو کھلاڑی پرفارمنس دیتے ہیں
اس کو ہماری بدقسمتی کہیں یا کچھ اور لگتا ایسے ہے جیسے ہمارے کچھ بلے بازوں کو بلے بازی سے زیادہ گیند بازی جب کہ گیند بازوں کو زیادہ بلے بازی کا شوق ہو
پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف اگر ون ڈے سیریز میں ہار کا بغور جائزہ لیا جائے تو دو چیزیں واضح نظر آتی ہیں جن میں سے ایک ٹیم کمبینیشن اور دوسری بہت ہی دفاعی حکمت عملی اگر پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف ٹیم کمبینیشن کی بات کی جائے تو ایسے لگتا ہے جیسے اپنے لاڈلوں کو نوازنے کے لیے ان کھلاڑیوں کو پلینگ الیون سے باہر بٹھایا گیا؟ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انگلینڈ کی کمزور ٹیم کو دیکھ کر یہ سوچا گیا ہو کہ ان کے خلاف اگر پرفارمنس ہو گی تو پھر ٹیم میں ایک دو سال جگہ مزید پکی ہو جائے گی؟میرے خیال میں محمد رضوان بطور اوپنر بیٹسمین اچھے کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے ان کو اگر بطور اوپنر بیٹسمین ہی کھیلایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا اس کے ساتھ ساتھ عثمان قادر کی اچھی کارکردگی پر شاداب خان کو ترجیح دینا بھی کافی حیران کن تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ شاداب خان کہ شاداب خان ایک اچھے فیلڈر ہیں اور بلے بازی بھی کر لیتے ہیں مگر شاید وہ یہ بھول گئے ہیں کہ وہ پاکستان کی ٹیم میں بطور گیند باز شامل ہوئے تھے جو اب ان سے ہو نہیں رہی
جیسا دیس ویسا بھیس والی مثال کو اگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے استعمال کیا جائے تو جیسا کوچ ویسی ٹیم والی مثال بنے گی مصباح الحق بطور کھلاڑی کبھی بھی اپنے دفاعی انداز سے باہر نہیں نکلے اور بہت جس جس وقت اہم موقع پر ٹیم کو تیز رفتار اننگز کی ضرورت تھی وہ ہمیں دفاعی انداز اپنائے ہوئے نظر آئے اور لگتا ایسے ہیں جیسے اسی چیز کو انہوں نے اپنے کوچنگ کیرئیر میں بھی جاری رکھا ہوا ہے جس انداز سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم پہلے دس سے پندرہ اوورز کھیلتی ہے اس طرح کی کرکٹ تو 90 کی دہائی میں بھی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے فخر زمان جیسے کھلاڑی کو اس کے روایتی انداز سے ہٹ کر اگر دفاعی انداز اپنانے کو کہا جائے تو پھر کامیابی ملنا مشکل ہی ہے
جس انداز سے آج کل پاکستان کی سبز ہلالی کیپ کھلاڑیوں میں تقسیم کی جا رہی ہے اس سے یقینا بورڈ اور سلیکشن کمیٹی کی دریا دلی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے
کھبی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ دوسروں کا جتنا خیال اس بورڈ نے رکھا ہے کسی اور نے نہیں رکھا ہو گا یہ دنیا کا واحد کرکٹ بورڈ ہے جس میں اپنے ہی نکالے ہوئے لوگوں کو دوبارہ اسی عہدے پر لایا جاتا ہے
جس بھی کھلاڑی نے کسی ایک لیگ میں اچھی کارکردگی دکھا دی ہم اسے اپنا ہیرو بنا لیتے ہیں جب کہ سونا بھی تب تک کندن نہیں بنتا جب تک اسے آگ میں نا ڈالا جائے پھر کیسی ایک کھلاڑی کو ان سب پر کیسے ترجیح دی جا سکتی ہے جو سالوں سال ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں؟
میرے خیال میں اس وقت سب سے زیادہ مشکل میں بابر اعظم ہیں ایک طرف ٹیم کمبینیشن ہے اور دوسری طرف یاری دوستی جس کی وجہ سے ایسے لگتا ہے وہ ٹھیک سےکمبینیشن نہیں بنا پا رہے۔ کب تک ہم فہیم اشرف اور شاداب خان کو ایک اچھا آلراؤنڈر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے؟
پاکستان کی ٹیم جب تک دفاعی حکمت عملی نہیں چھوڑے گی اور ہار کا خوف دل سے نہیں نکالے گی جیت نہیں سکتی اور اس چیز کے لیے اب وقت آگیا ہے مصباح الحق کو گڈ بائے کہا جائے( اگرچہ ولڈکپ ٹی 20 میں وقت کم ہے ) یقینا وہ پاکستان کی ٹیم پر اتنے تجربے کر چکے ہیں کہ اب مزید کسی تجربے کی گنجائش نہیں

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں

adds

متعلقہ خبریں