More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس
Latest news
کراچی۔ 29 سال بعد پاکستان میں آج کرکٹ کا بین الاقوامی میلہ سجے گا 8 ٹاپ ٹیموں میں کانٹے دار مقابلے۔ شائقین کرکٹ بے تاب۔ کھلاڑی پر جوش کراچی کے عالمی معیار کے سٹیڈیم میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا بڑا مقابلہ صدر مملکت آصف علی زرداری کراچی نیشنل بینک سٹیڈیم میں افتتاحی میچ کے مہمان خصوصی ہونگے پاکستان ائیر فورس کے جانباز آج شیردل شو پیش کریں گے چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کراچی نیشنل سٹیڈیم میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ دیکھیں گے چیمپئنز ٹرافی صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ثقافت و تہذیب کو فروغ دینے کاخوبصورت سلسلہ بھی ہے۔ محسن نقوی تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ محسن نقوی چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد پرامن اور محفوظ پاکستان کی جیت ہے۔ محسن نقوی میرے سمیت آج ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے۔ محسن نقوی اللہ تعالٰی کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ محسن نقوی پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ کرکٹ کے دلدادہ ہیں اور کرکٹ سے محبت کرتے ہیں۔ محسن نقوی انتظار کی گھڑیاں ختم۔ کل پاکستان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا میلہ سجنے کو تیار پہلا جوڑ کراچی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پڑے گا۔ صدر آصف علی زرداری مہمان خصوصی ہونگے کل پاکستان ائیر فورس شیر دل شو کا شاندار فضائی مظاہرہ کرے گی چئیرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت قذافی سٹیڈیم میں اہم اجلاس چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کی تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا پاکستان چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ محسن نقوی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی تمام تر انتظامات کو خوب سے خوب تر بنانے کی ہدایت تمام ٹیموں کو بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ محسن نقوی سٹیڈیمز میں شائقین کرکٹ کیلئے ہر ممکن سہولتیں دیں گے۔ محسن نقوی 29 برس بعد آئی سی سی ٹورنامنٹ کا انعقاد پاکستان کے لئے باعث افتخار ہے۔ محسن نقوی چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کا شاندار انعقاد یقینی بنا کر پاکستان کی عزت بڑھائیں گے۔ محسن نقوی ایڈوائزر عامر میر۔ چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد۔ ڈائریکٹر سکیورٹی۔ ڈائریکٹر انفراسٹرکچر۔ ڈائریکٹر ایچ آر و ایڈمن ۔ ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کمیونیکیشن۔ ہیڈ آف آئی ٹی۔ ہیڈ آف ویمنز ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام کی اجلاس میں شرکت آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 / پاکستان میں بین الاقوامی ٹیموں کی آمد انگلینڈ کرکٹ ٹیم آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گئی انگلینڈ کرکٹ ٹیم کپتان جاس بٹلر کی قیادت میں لاہور پہنچی انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا کھلاڑیوں اور اسٹاف سمیت 31 رکنی دستہ براستہ دبئی لاہور پہنچا ہیڈ کوچ برینڈن مکیلم سمیت انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے منیجنگ ڈائریکٹر رابرٹ کی بھی ٹیم کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے۔ انگلینڈ کرکٹ ٹیم آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں اپنے گروپ میچ لاہور اور کراچی میں کھیلے گی انگلینڈ کرکٹ ٹیم اپنا افتتاحی میچ 22 فروری کو روایتی حریف آسٹریلیا کے خلاف قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گی۔ انگلینڈ کا دوسرا میچ افغانستان کے خلاف 26 فروری کو لاہور میں شیڈول ہے۔ انگلینڈ اپنا تیسرا اور آخری گروپ میچ یکم مارچ کو جنوبی افریقہ کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گی۔ بریکنگ شاباش گرین شرٹس شاباش۔ چیئرمین پی سی محسن نقوی چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے میچ جیتنے پر پاکستانی ٹیم کو مبارکباد پاکستانی کھلاڑیوں نے زبردست کھیل پیش کیا اور مشکل ٹارگٹ کو حاصل کیا۔ محسن نقوی پاکستانی ٹیم نے میچ جیت کر فائنل کے لیے کوالیفائی کرکے قوم کو خوشیاں دیں۔ محسن نقوی محمد رضوان اور سلمان آغا کو شاندار بیٹنگ پر شاباش اور مبارکباد ۔ محسن نقوی کپتان محمد رضوان نے صحیح معنوں میں کیپٹنز اننگز کھیلی۔ محسن نقوی نائب کپتان سلمان آغا نے بھی شاندار بلے بازی کی۔ محسن نقوی پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹیم ورک کا مظاہرہ کرکے جیت اپنے نام کی۔ محسن نقوی امید ہے کہ پاکستانی ٹیم سہ ملکی سیریز کا فائنل بھی جیتے گی۔ محسن نقوی کراچی۔ چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی نیا ناظم آباد سپورٹس جمخانہ آمد معروف صنعتکار عارف حبیب نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا خیر مقدم کیا چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے نیا ناظم آباد کرکٹ سٹیڈیم میں نیٹ پریکٹس کرنے والے ینگ کرکٹرز سے ملاقات کی اور ان کی باولنگ و بیٹنگ دیکھی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے ینگ کرکٹرز کے ٹیلنٹ کی تعریف کی اور انہیں شاباش دی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے ینگ کرکٹرز کو پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات کی دعوت دی ینگ کرکٹرز کل پاکستان ٹیم سے ملاقات کریں گے چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے سپورٹس جمخانہ کا وزٹ کیا اور مختلف کھیلوں کی سہولتوں کا جائزہ لیا چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے شاندار سپورٹس فیسلیٹی پر عارف حبیب اور ان کی ٹیم کو سراہا چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے عملے سے بھی ملاقات کی اور شاندار گراونڈ بنانے پر شاباش دی وزیر کھیل سندھ۔ معروف شخصیات اور سابق پلیئرز بھی اس موقع پرموجود تھے ٹکرز افغانستان کی کرکٹ ٹیم آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے لاہور پہنچ گئی۔ افغانستان کی ٹیم پہلی بار آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی میں حصہ لے رہی ہے۔ ٹیم کی قیادت حشمت اللہ شاہدی کر رہے ہیں۔ افغانستان کا پہلا میچ 21 فروری کو جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی میں ہوگا۔ بریکنگ نیوز کراچی۔ غیر معمولی سپیڈ۔ انتھک محنت اور اعلی ترین معیار۔ نیشنل سٹیڈیم کراچی مکمل تیار۔ آج شام رنگارنگ افتتاحی تقریب عوام کا داخلہ فری۔نامورگلوکار علی ظفر۔ شفقت امانت علی اور ساحر علی بگا تقریب کو چار چاند لگائیں گے آتش بازی اور لائٹس شو کا شاندار مظاہرہ ہو گا نئی پویلین عمارت۔ ہر انکلوژرز میں نئی کرسیاں۔جدید ایل ای ڈی لائٹس۔ نئی سکور سکرینز اور گرل نصب ہاسپٹلٹی باکسز کی اپ گریڈیشن۔ شائقین کرکٹ و کھلاڑیوں کے لئے سہولتوں میں اضافہ۔ قذافی سٹیڈیم کے بعد آج نیشنل سٹیڈیم کراچی کے افتتاح پر اللہ تعالٰی کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ محسن نقوی ہماری دن رات کی مخلصانہ کاوشوں کو رب ذوالجلال نے ثمر آور کیا۔ محسن نقوی تنقید کرکے باوجود پوری ٹیم مشن سمجھ کر کام میں مصروف رہی۔ محسن نقوی ہم پاکستان کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھے اور اللہ تعالٰی نے کامیاب کیا۔ محسن نقوی نیشنل سٹیڈیم کراچی کی تعمیر میں حصہ لینے والے مزدوروں کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ محسن نقوی ایف ڈبلیو او۔ نیسپاک ۔ کنٹریکٹر اور پی سی بی کی ٹیم نے بھی قومی فریضہ سمجھ کر کام کیا۔ محسن نقوی چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل سٹیڈیمز کی تعمیر نو ایک چیلنج تھا۔ اللہ تعالٰی نے ہمیں اور پاکستان کو سرخرو کیا ۔ محسن نقوی کراچی سہہ ملکی کرکٹ سیریز قومی سکواڈ کی نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کراچی میں پریکٹس جاری قومی کھلاڑیوں نے وارم اپ اور فیلڈنگ ڈرلز میں حصہ لیا کوچز نے کھلاڑیوں کو کیچز اور فیلڈنگ کی ٹریننگ کرائی کھلاڑیوں نے نیٹ میں بیٹنگ اور باولنگ کی پریکٹس کی پاکستان اور جنوبی آفریقہ کے درمیان میچ 12 فروری کو کھیلا جائے گا ٹکرز ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 کے لوگو کی رونمائی ۔ لاہور ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آج ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 10 ویں ایڈیشن کے لوگو کی رونمائی کر دی۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل کا 10 واں ایڈیشن 8 اپریل سے 19 مئی 2025 تک منعقد ہوگا۔ یہ ایونٹ اس لیے یادگار ہے کہ یہ اپنے دس سال مکمل کررہاہے۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 کا لوگو لیگ کے غیر معمولی سفر کو جرات مندانہ خراج تحسین ہے۔ لوگو کا ایک نمایاں عنصر چھ بولڈ اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی لائنز ہیں جو چھ فرنچائزز کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں ۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل صرف ایک لیگ نہیں بلکہ قومی جذبے کی آئینہ دار ہے۔اس نے قوم کو متحد کررکھا ہے۔ سلمان نصیر چیف ایگزیکٹیو پی ایس ایل۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن میں شائقین کو کرکٹ کے یادگار لمحات سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔ سلمان نصیر۔ لاہور : ٹرائی نیشن سیریز قومی سکواڈ کا غنی انسٹیٹیوٹ آف کرکٹ میں پریکٹس سیشن جاری قومی کھلاڑی کا سنیریو بیسڈ پریکٹس میچ جاری سنیریو بیسڈ میچ سے قبل کھلاڑیوں نے وارم اپ میں حصہ لیا ٹرائی نیشن سیریز کا پہلا میچ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین ہوگا میچ 8 فروری کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا

سب کچھ مصباح، آخر کیوں ؟

سب کچھ مصباح، آخر کیوں ؟
آفتاب تابی
آفتاب تابی

بدھ کی شام پاکستان اور سری لنکا کے مابین لاہور میں ہونے والے تیسرے ٹی 20 کا نتیجہ بھی پہلے دونوں میچز کی طرح ہی رہا اور سری لنکا نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو اس میچ میں ہرا کر پاکستانی شائقین کرکٹ کے دلوں کے ساتھ ساتھ ٹی 20 سریز بھی تین صفر سے جیت لی اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو وائٹ واش سے دوچار ہونا پڑا ویسے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کرکٹ کا کھیل بھی عجیب کھیل ہے جس میں منہ کالا کروانے کو وائٹ واش کہا جاتا ہے بظاہر ہلکی سمجھی جانے والی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم ٹی 20 رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود پاکستان کی کرکٹ ٹیم پر بھاری ثابت ہوئی
سری لنکا کی نسبتا کم تجربہ رکھنے والی ٹیم کے ہاتھوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی شکست کے بعد بہت سے شائقین کرکٹ نے نئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کو تنقید کا نشانہ بنایا جو میرے خیال میں بہت ناانصافی ہے کیونکہ تنقید اس شخص پر کی جانی چاہیے جس نے مصباح الحق کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا ہے مصباح الحق پر تنقید تب جائز ہے جب ہمیں معلوم ہو کہ وہ اس کام کا اہل ہے جب ہمیں معلوم ہے وہ ان سب کاموں کو ایک ساتھ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا (خاص کر چیف سلیکٹر کے عہدے کے لیے ) اور آج تک بحثیت کپتان کچھ خاص کھلاڑیوں کو نوازنے میں مگن رہا ہے تو پھر تنقید کیسی ؟ ویسے بھی اکیلا مصباح الحق کیا کیا کر لے گا بحیثیت کپتان اور کھلاڑی ہمیشہ مصباح الحق اکیلا وکٹ پر موجود رہتا اور کوئی اس کا ساتھ نہیں دیتا تھا اور شاید پاکستان کرکٹ بورڈ کے امپورٹڈ ایم ڈی کو یہ بات اتنی اچھی لگی اورانہوں نے سوچا جب ایک بندہ بحیثیت کھلاڑی اکیلے اتنا سب کچھ کر سکتا ہے تو کیوں دس لوگوں کو نوکری پر رکھ کر جھنجٹ پالنا اکیلے مصباح الحق ہی کو پاکستان کی کرکٹ کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیتے ہیں بندہ پڑھا لکھا بھی ہے ویسے بھی تنقید برداشت کرنے کا ماہر ہے اگر کوئی تنقید کرے گا تو خود سنبھال لے گا – مجال ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف ایک لفظ بھی کھبی بولا ہو جب اتنی ساری قابلیت ایک بندے میں موجود ہو تو پھر اس سے بہتر انتخاب کوئی نہیں ہو سکتا مگر شاید مصباح الحق کو منتخب کرنے والے اس بات کو بھول گئے تھے کہ یہ پاکستان کی کرکٹ ہے کوئی جنرل اسٹور نہیں جس میں ایک ہی بندے سے ہر طرح کا کام کروایا جا سکتا ہے دوسری طرف اگر ایک بندے کو پاکستان کی کرکٹ کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا جائے اور ساتھ مہینے کا تیس لاکھ( کم و بیش ) پاکستانی روپیہ تنخواہ بھی ملے تو کیا وہ انکار کرے گا ؟ لہذا مصباح الحق پر تنقید کیسی اس نے تو وہ ہی کیا جو صاحب بہادر نے کہا اور اب وہی کرے گا جو صاحب بہادر چاہیں گے اور صاحب بہادر تو صاحب بہادر ہیں ان سے کبھی کوئی پوچھ سکتا ہے کیا کہ اس بندے کو کس بنیاد پر لائے؟
اگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی اس سریز میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ان دنوں پاکستان کی ٹیم کے سیاہ و سفید کے مالک مصباح الحق کو الٹا لینے کے دینے پڑ گئے ہیں جس انداز میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو پاکستان کرکٹ کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اگر کوئی بھی شخص ہمارے پاس نوکری کے لیے آتا ہے تو ہم سب سے پہلے اس کا تجربہ دیکھتے ہیں اور اس تجربے کی بنیاد پر اس کا انتخاب کرتے ہیں اگر اس نوکری کے لیے اسی شخص کا انتخاب ہماری ضد ہو تو کچھ عرصہ ہم اس کو کسی سینئر یا تجربہ رکھنے والے شخص کے ساتھ کام کرنے کو کہتے ہیں اور جب شخص مطلوبہ تجربہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کو وہ ذمہ داری دی جاتی ہے مگر بغیر تجربہ حاصل کیے اس کو کسی بھی کمپنی کے سیاہ و سفید کا مالک نہیں بنایا جاتا جبکہ میرے نزدیک مصباح الحق جیسا کھلاڑی جس نے کسی انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کی تو کیا کسی کلب کی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ بھی نا کی ہو  وہ ہیڈ کوچ کی ذمہ داری ہو ، بیٹنگ کوچ کے لیے تقرری ہو ، یا پھر چیف سلیکٹر بنایا جانا وہ کسی بھی لحاظ سے کسی بھی تقرری کے لیے مناسب انتخاب نہیں تھے اور پھر جس بھونڈے انداز میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس تقرری کا دفاع کیا اس سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنا مذاق خود بنوایا
مصباح الحق کا پہلا امتحان سری لنکا کے خلاف پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی تقریبا دس سال بعد پاکستان میں ہونے والی سریز تھی اور مصباح الحق نے جس انداز میں ٹیم کا انتخاب کیا اس سے ایسے لگ رہا تھا جیسے بہت سے کھلاڑیوں کو سری لنکا کی کمزور ٹیم کے خلاف اپنا کیرئیر بچانے کا موقع دیا گیا ہے تا کہ وہ سری لنکا کی کمزور ٹیم کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ایک بار پھر ٹیم میں اپنی جگہ پکی کر سکیں اس میں سب سے حیران کن بات عمر اکمل اور احمد شہزاد کی ٹیم میں شمولیت تھی کیونکہ بحیثیت کپتان مصباح الحق نے ہمیشہ ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے سے گریز کیا مگر جیسے ہی ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر بنے سب سے پہلے ان دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم میں منتخب کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے پاکستان کی کرکٹ آگے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف جا رہی ہے
ولڈکپ کے اختتام پذیر ہوتے ہی بہت سے دوسرے ممالک کی کرکٹ ٹیموں میں ان کے سنیئر کھلاڑیوں کو آرام دے کر نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جا رہا ہے تا کہ مستبقل کے لیے ان پاس ایسے کھلاڑی تیار ہوسکیں جو ان ٹیموں کے لیے لمبے عرصے تک کھیل سکیں مگر نا جانے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ان دنوں سیاہ و سفید کے مالک مصباح الحق کے دماغ میں کیا بات آئی انہوں نے بجائے ان کھلاڑیوں کو موقع دینے کے جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا ان کھلاڑیوں کو موقع فراہم کیا جو مسلسل ناکامی کا سبب بن رہے ہیں ۔ مصباح الحق نے آصف علی جیسے کھلاڑی کو کارکردگی کم اور یاری دوستی کی بنیاد پر زیادہ ٹیم میں شامل کیا۔ سری لنکا کی کمزور ٹیم کے خلاف سرفراز احمد اور شاداب خان کو آرام کی بجائے دوبارہ موقع دیا گیا تا کہ وہ اس کم تجربہ کار ٹیم کے خلاف کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد اپنے ناقدین کا منہ بند کر سکیں مگر ایسا نا ہو سکا اور بجائے ان کی کارکردگی اچھی ہونے کے مزید خراب رہی۔
میرے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق کو چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ دونوں عہدے دے کر بہت بڑا رسک لیا ہے جو آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ ان کے لیے مہنگا ثابت ہو گا چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی ذمہ داری ایک شخص کے لیے نبھانا بہت مشکل ہے ایک اچھا چیف سلیکٹر کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیتاہےاس کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کے میچز کو خود جا کر غور سے دیکھتا ہے کیونکہ کئی دفعہ جو کارکردگی کاغذوں میں نظر آتی ہے اس میں اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے مثال کے طور پر ایک کھلاڑی بہت اچھی بالنگ کا مظاہرہ کرتا ہے مگر اس کی گیند پر کیچز چھوٹنے کی وجہ سے وہ کم وکٹیں لیتا ہے تو اسکور کارڈ میں اس بات کا ذکر نہیں ہو گا کہ اس کی گیندوں پر اتنے کیچڑ بھی چھوتے جبکہ دوسری طرف ایک کھلاڑی کے بیٹنگ کے دوران چار سے پانچ کیچ چھوڑے جاتے ہیں اور وہ کھلاڑی ستر یا اسی سکور کر لیتا ہے تو اسکور کارڈ میں اس بات کا ذکر نہیں ہو گا کہ اس کے اتنے کیچ چھوڑے  گئے جبکہ دوسری طرف ہیڈ کوچ کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں جا کر کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا بہت مشکل ہے اور اگر اس کے ساتھ ساتھ جب سلیکشن کمیٹی میں سوائے چیف سلیکٹر کے کوئی خاص ممبر شامل نا ہو تو میرے خیال میں مستقبل میں ٹیم کا انتخاب صرف اور صرف کاغذی کارگردگی پر ہی ہو گا کوچ اور کھلاڑیوں کے درمیان ایک استاد شاگرد کا رشتہ ہوتا ہے جس سے اس کے شاگرد اپنے مشکلات کا حل پوچھتے ہیں مگر وہ ہی کوچ اگر چیف سلیکٹر بھی ہو تو کیا کھلاڑی اس سے اپنی مشکلات کا ذکر کر سکیں گے یہ ایک بہت سوالیہ نشان ہے میرا پاکستان کرکٹ بورڈ کے باہر سے امپورٹڈ کیے گئے ایم ڈی کو مشورہ ہے کہ ابھی بھی وقت ہے پاکستان کی کرکٹ پر تھوڑا رحم فرمائیں اور کوچ اور چیف سلیکٹر دو الگ الگ بندوں کو بنایا جائے ویسے بھی ایم ڈی صاحب تو کچھ عرصے بعد واپس اپنے وطن لوٹ جائیں گے مگر اس  وقت تک پاکستان کی کرکٹ کا بیڑہ غرق ہو چکا ہو گا۔ کیونکہ سری لنکا کے لگائے چھوٹے چھوٹے زخم آسٹریلیا بہت بڑے کر دے گی اور مصباح الحق پر گولہ باری عروج پر پہنچ جائے گی

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں