More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس
Latest news
میں محنتی کھلاڑیوں کو اور ڈسپلن کو پسند کرتا ہوں۔ جیسن گلیسپی۔ ٹیسٹ کرکٹ آپ کی مہارت ، ذہنی صلاحیت اور صبر کا امتحان ہے۔ جیسن گلیسپی ۔ میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں جیتنا چاہتا ہوں۔ جیسن گلیسپی ۔ مجھے معلوم ہے کہ پاکستانی شائقین ٹیم کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ جیسن گلیسپی۔ دنیا کے چند بہترین کرکٹرز کے ساتھ کام کرنے کی تجویز میرے لیے پرکشش تھی۔ گیری کرسٹن۔ میں پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں ۔ گیری کرسٹن۔ میں تسلسل اور مستقل مزاجی کا قائل ہوں۔کھلاڑیوں کو میری مکمل سپورٹ حاصل رہے گی۔ گیری کرسٹن۔ ٹیم کی صلاحیتوں کو میدان میں بھرپور انداز سے پیش کرنا میری کوشش ہوگی۔ گیری کرسٹن لاہور ۔ جیسن گلیسپی اور گیری کرسٹن پاکستان کے ہیڈ کوچز مقرر ۔ جیسن گلیسپی پاکستان کرکٹ ٹیم کے ریڈ بال ہیڈ کوچ مقرر کردیے گئے۔ گیری کرسٹن پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مقرر ۔ اظہرمحمود دونوں فارمیٹس میں اسسٹنٹ کوچ ہونگے۔ تینوں تقرریاں دو سال کی مدت کے لیے کی گئی ہیں۔ گلیسپی اور گیری کرسٹن کا وسیع تجربہ پاکستان ٹیم کو بہترین رہنمائی فراہم کرے گا۔ محسن نقوی۔ پی سی بی کا شکریہ کہ انہوں نے میری صلاحیتوں پر اعتماد کیا۔ جیسن گلیسپی۔ عالمی سطح پر پاکستان ایک بڑی ٹیم ہے اس کی کوچنگ اعزاز ہے۔ گیری کرسٹن۔ میرا مقصد کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ گیری کرسٹن۔ گیری کرسٹن انڈیا اور جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ کرکٹ میں عالمی نمبر ایک بناچکے ہیں۔ جیسن گلیسپی کی کوچنگ میں یارکشائر دو مرتبہ کاؤنٹی چیمپئن شپ جیت چکی ہے۔ اہم ٹیکرز پاکستان کرکٹ ٹیم کی آخری ٹی ٹونٹی میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف جیت۔ نیدرلینڈ کی سفیر نے بھی گرین شرٹ پہن لی نیدر لینڈ کی سفیر ہینی ڈی وریس (Ms. Henny de Vries) کی قذافی سٹیڈیم آمد چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے نیدرلینڈ کی سفیر کا خیرمقدم کیا چئیرمین پی سی بی محسن نقوی سے نیدرلینڈ کی سفیر کی ملاقات باہمی دلچسپی کے امور. کرکٹ اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال نیدرلینڈ کی سفیر نے میچ اور سٹیڈیم کے انتظامات کے بارے اپنے تاثرات چئیرمین پی سی بی سے شئیر کئے نیدرلینڈ کی سفیر نے شاندار انتظامات پر چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کو مبارکباد دی پاکستان نیوزی لینڈ کا میچ دیکھا۔ بہت انجوائے کیا۔ سفیر نیدرلینڈ قذافی سٹیڈیم میں شائقین کرکٹ کا نطم و ضبط دیکھ کر خوشی ہوئی۔ سفیر نیدرلینڈ شائقین کرکٹ کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ سفیر نیدرلینڈ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم آمد پر نیدرلینڈ کی سفیر کا شکریہ ادا کیا کرکٹ کے کھیل سے پاکستانی قوم خصوصی لگاو رکھتی ہے۔ محسن نقوی کرکٹ دلوں کو جوڑنے والا کھیل ہے۔ محسن نقوی پاکستان نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بہترین انتظامات پر پی سی بی کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ محسن نقوی دیگر اداروں نے بھی دن رات محنت سے کام کیا۔ محسن نقوی چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سلمان نصیر اور نیدرلینڈ سفارتخانے کی فرست سیکرٹری بھی اس موقع پر موجود تھیں شکریہ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی۔ شکریہ. سٹیڈیم میں میچ دکھانے پر بے سہارا و یتیم بچے خوش بچوں آپ کا شکریہ ۔ ہماری دعوت پر سٹیڈیم آکر میچ دیکھا۔ محسن نقوی چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی خصوصی دعوت پر بے سہارا اور یتیم بچوں نے پاکستان نیوزی لینڈ کا چوتھا ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھا 140 بچے قذافی سٹیڈیم میں پی سی بی کے خاص مہمان تھے چئیرمین پی سی بی کی ہدایت پر بچوں کی تواضع کی گئی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی میچ کے اختتام پر بچوں کے پاس گئے اور بچوں سے ملاقات کی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے بچوں سے مصافحہ کیا اور میچ کے بارے پوچھا بے سہارا اور یتیم بچوں نے میچ دکھانے پر چئیرمین پی سی بی کا شکریہ ادا کیا سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کا مزہ آیا۔ بچوں کی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی سے گفتگو پہلی بار سٹیڈیم آکر میچ دیکھا ۔ بچوں کی چئیرمین پی سی بی سے گفتگو پی سی بی نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ آپ کا شکریہ۔ بچوں کی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی سے گفتگو صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سہیل شوکت بٹ۔ انسپکٹرجنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے اہم ترین ٹیکرز چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سکاٹ وئینک ( Mr. Scott Weenink) کی ملاقات پاکستان نیوزی لینڈ کرکٹ سیریز اور اگلے برس نیوزی لینڈ میں کرکٹ سیریز پر تبادلہ خیال پاکستان کرکٹ ٹیم اگلے برس چیمپئنز ٹرافی کے بعد نیوزی لینڈ کا دورہ کرے گی پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ میں 5 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچ کھیلے گی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے کرکٹ سیریز کے لئے پاکستان آمد پر چیف ایگزیکٹو آفیسر نیوزی لینڈ کرکٹ کا شکریہ ادا کیا کیویز کھلاڑیوں کی سکیورٹی بے حد عزیز ہے۔ محسن نقوی کھلاڑیوں کی سکیورٹی کے لئے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ محسن نقوی کیویز کھلاڑی ہمارے معزز مہمان ہیں۔ ان کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ محسن نقوی ذاتی طور پر تمام انتظامات اور سکیورٹی پلان کی مانیٹرنگ کر رہا ہوں۔ محسن نقوی نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پاکستان میں شاندار انتظامات کو سراہا اور چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے لئے راولپنڈی اور لاہور میں بہترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر نیوزی لینڈ کرکٹ راولپنڈی اور لاہور میں بہترین انتظامات دیکھ کر خوشی ہوئی۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر نیوزی لینڈ کرکٹ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 3 ملکی سیریز کھیلنے چیمپئنز ٹرافی سے پہلے پاکستان آئے گی ۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر نیوزی لینڈ کرکٹ چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سلمان نصیر۔ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ بھی اس موقع پر موجود تھے ٹکرز بسمہ معروف ریٹائرمنٹ۔ پاکستان ویمنز ٹیم کی سابق کپتان بسمہ معروف نے کرکٹ سے فوری ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ بسمہ معروف نے 276 بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جو قومی ریکارڈ ہے۔ بسمہ معروف نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 6262 رنز بنائے اور 80 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کھیل کو خیرباد کہہ رہی ہوں جس سے مجھے بہت پیار ہے۔ بسمہ معروف۔ کرکٹ کا یہ سفر یادگار رہا ہے ۔ یہ یادیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔ بسمہ معروف۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ۔ ساتھی کھلاڑیوں فیملی اور پرستاروں نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔ بسمہ معروف۔ ویمنز کرکٹ کے لیے بسمہ معروف کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ تانیہ ملک۔ پاکستان نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سیریز۔۔ چوتھا میچ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی بے سہارا و یتیم بچوں کو میچ دیکھنے کی خصوصی دعوت 140 بے سہارا و یتیم بچے قذافی سٹیڈیم میں پی سی بی کے مہمان خاص ہوں گے بے سہارا و یتیم بچوں کی میچ کے دوران مہمان نوازی بھی کی جائے گی چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی ہدایت پر بے سہارا و یتیم بچوں کے لیے فرسٹ کلاس انکلوژر کی ٹکٹس فراہم کر دی گئیں پی سی بی حکام کا ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر سے رابطہ۔ بچوں کے لیے ٹکٹس مہیا کر دیں بے سہارا و یتیم بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کی یہ حققیر سی کاوش ہے۔ محسن نقوی ٹکرز ندا ڈار۔ ہماری آج میچ میں بولنگ اور فلیڈنگ اچھی نہیں رہی۔ کپتان نداڈار ہم نے آخری دس اوورز میں زیادہ رنز دے ڈالے۔ اگر ہم ویسٹ انڈیز کو 220 تک محدود کرتے تو نتیجہ مختلف ہوتا۔ جیت ہار کھیل کا حصہ ہے ہمیں بہتر منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ تمام کھلاڑیوں کو اپنی اپنی ذمہ داری سنبھالنی ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ اگلے میچوں میں ٹیم اچھا کھیل پیش کرے گی۔ ٹکرز پہلا ویمنز ون ڈے ۔ کراچی ۔ ویسٹ انڈیز ویمنز نے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان ویمنز کو 113 رنز سے ہرادیا۔ ویسٹ انڈیز ویمنز کے 269 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں پاکستان ویمنز ٹیم 156 رنز پر آؤٹ ۔ کپتان ہیلی میتھیوز کے کریئر بیسٹ 140 رنز ناٹ آؤٹ اور تین وکٹوں کی عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی سعدیہ اقبال اور طوبٰی حسن کی دو دو وکٹیں۔ پاکستان ویمنز کی طرف سے طوبٰی حسن 25 رنز بناکر ٹاپ اسکورر۔ دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل اتوار کے روز کھیلا جائے گا۔ سپورٹس بورڈ پنجاب ٹیکرز صوبائی وزیرکھیل وامورنوجوانان پنجاب ملک فیصل ایوب کھوکھر کا دورہ شاہ کوٹ ننکانہ صاحب صوبائی وزیرکھیل پنجاب ملک فیصل ایوب کھوکھر نے شاہ کوٹ سٹی میں سٹیٹ آف دی آرٹ سپورٹس جمنازیم کا افتتاح کیا نتھووالا شاہ کوٹ میں ملٹی پرپز سپورٹس سٹیڈیم کا بھی افتتاح کردیا ڈی جی سپورٹس پنجاب پرویز اقبال نے نئے تعمیر ہونیوالے منصوبوں بارے بریفنگ دی پنجاب میں پہلی بار دیہاتوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ سپورٹس سٹیڈیم تعمیر کررہے ہیں، وزیرکھیل پنجاب سپورٹس کی ترقی کا دور شروع ہوچکا ہے، فیصل ایوب کھوکھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ویژن سپورٹس کی ترقی ہے،وزیرکھیل پنجاب پنجاب میں گاؤں اور تحصیل کی سطح پر بھی سپورٹس کمپلیکس بنانے جارہے ہیں،فیصل ایوب کھوکھر 300سپورٹس سہولیات تعمیر کررہے ہیں،وزیرکھیل پنجاب بہترین کھلاڑیوں کو بیرونی ممالک بھی بھجوائیں گے،فیصل ایوب کھوکھر ہمارے کھلاڑی انٹرنیشنل مقابلوں میں ملک کا نام روشن کریں گے،وزیرکھیل پنجاب شاہ کوٹ جمنازیم کی افتتاحی تقریب سے ڈی جی سپورٹس پنجاب پرویز اقبال نے بھی خطاب کیا ڈویژنل سپورٹس آفیسر لاہوررانا ندیم انجم، پی ڈی پی ایم یو قیصر رضا بھی افتتاحی تقریب میں شریک ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر ننکانہ صاحب اور اے ڈی سی ننکانہ صاحب بھی شریک

U-Turn وائرس نے پی سی بی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا

U-Turn وائرس نے پی سی بی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا
آفتاب تابی
آفتاب تابی

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو مسلسل چوتھے میچ میں شکست دی اور سریز چار صفر انگلینڈ نے اپنے نام کر لی پاکستان کی ٹیم کا یہ مسلسل نواں میچ تھا جو وہ ہارے ولڈکپ سے پہلے یہ آخری سیریز تھی جو پاکستان کی ٹیم نے کھیلی۔اس سیریز کے ختم ہوتے ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے ولڈکپ کے لیے حتمی کھلاڑیوں کا نام اعلان کرتے ہوئے فاسٹ باؤلر محمد عامر ، وہاب ریاض اور جارحانہ انداز کے بلے باز آصف علی کو ٹیم میں منتخب کر لیا اور پہلے سے منتخب ٹیم میں سے جنید خان، فہیم اشرف اور عابد علی کو ڈراپ کر دیا گیا اور ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی کی بات ہے جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم ولڈکپ کھیلنےکے لیے انگلستان روانہ ہو رہی تھی تو لاہور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں چیف سلیکٹر انضمام الحق ان تمام کھلاڑیوں کی تعریف میں بہت پل باندھ رہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ ان سے بہتر کھلاڑی پاکستان میں نہیں۔محمد عامر اور آصف علی کو انگلینڈ کے خلاف سریز کا حصہ بنایا گیا تھا اور اس کے ساتھ یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو ولڈکپ میں بھی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آصف علی نے انگلینڈ کے خلاف تھوڑی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر محمد عامر بیمار ہونے کی وجہ سے کوئی میچ نا کھیل سکے۔
انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے لاہور میں پریس کانفرنس میں وہاب ریاض، محمد عامر اور آصف علی کو ٹیم میں منتخب کرنے کا اعلان کیا تو ان کو بہت سے چبتے ہوئے سوالات کے جوابات دینے پڑے جن کا جواب انہوں نے سوال گندم جواب چنا جیسے دیے۔
تمام دنیا کے کرکٹ بورڈز ولڈکپ ختم ہوتے ہی اگلے ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم کا انتخاب اور اس کے لئے پلان بنانا شروع کر دیتے ہیں اور ورلڈ کپ سے تقریبا چھ ماہ پہلے اپنےکھلاڑیوں کا حتمی انتخاب کر لیتے ہیں مگر پاکستان کرکٹ بورڈ کا باوا آدم ہی نرالہ ہے یہاں پر سوائے یاری دوستی کے اور کچھ نہیں دیکھا جاتا اور آخری لمحات تک کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون ٹیم کا حصہ ہو گا اور کون نہیں۔
اگر دیکھا جائے تو حسب روایت اس بار بھی جنید خان کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے اور لگتا ایسے ہے کہ دوسروں کو نوازنے کی خاطر جنید خان کو ٹیم سے ڈراپ کیا گیا ہے۔ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد جنید خان نے جس انوکھے انداز میں احتجاج کیا ہے وہ بھی بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

پاکستان کی سلیکشن کمیٹی کے بھی اصول نرالے ہیں پہلے ایک کھلاڑی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہمارے پلان کا حصہ نہیں اور پھر اچانک اس کو میگا ایونٹ کے لیے ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے ۔ وہاب ریاض کے بارے میں ہمیشہ سے کپتان اور کوچ کہتے رہے ہیں کہ وہ ہمارے پلان کا حصہ نہیں پھر اچانک دو سال بعد ان کو ٹیم میں کیسے منتخب کر لیا گیا جب کہ دوسری طرف فہیم اشرف کو 3 سال گروم کرتے رہے۔پیسہ لگایا۔جب بڑا موقع آیا تو اسے گھر بٹھا دیا۔وہاب کو ورلڈکپ پلان سے حضرت مولانا صاحب نے عرصہ پہلے ہی دیس نکالا دے دیا تھا۔ٹورنامنٹ شروع ہونے سے 10 دن پہلے محسوس ہوا کہ وہاب ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہے جبکہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ وہاب ریاض کے بارے میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہاب ریاض میں میچ جتوانے کی صلاحیت موجود نہیں اس لیے وہ ٹیم کا حصہ نہیں بن سکتے یاد رہے وہاب ریاض نے اپنا آخری ون ڈے انٹرنیشنل جون 2017 میں بھارت کے خلاف کھیلا تھا جس میں انہوں نے 4۔8 اوورز میں 87 سکور دیئے تھے اور کوئی وکٹ حاصل نہیں کی تھی۔ عامر نے پچھلے 20 میچز میں شائد مشکل سے 4 یا 5وکٹ لیئے ہوں۔اب اسکی ضرورت شدت سے محسوس ہو گئی۔عامر کی پرفارمنس انگلینڈ سے سیریز میں دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا تو واپسی کس بنیاد پر ہوئی؟اگر وہ اتنا اچھا تھا تو پہلے ڈراپ کیوں کیا تھا؟حسنین ورلڈ کپ سے چند ماہ پہلے پی ایس ایل سے دریافت ہو کر سیدھا ورلڈکپ سکواڈ کا حصہ بن گیا۔جب کہ ابھی تک جتنے بھی میچز میں وہ ٹیم کا حصہ بنا کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا نا تو کوئی لائن اور نا ہی گیند پر اتنا کنٹرول نظر آیا سوائے سپیڈ کے ۔انضمام الحق صاحب نے وہاب ریاض اور محمد عامر کو ولڈکپ ٹیم میں شامل کرنے کی وجہ ان کا تجربہ بتایا ہے تو سوال یہ بنتا ہے کیا جنید خان حسنین سے کم تجربہ کار ہیں؟ یا پھر صرف اور صرف پاکستان سپر لیگ کی کارکردگی کی بنیاد پر کسی کو بھی میگا ایونٹ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے؟ انضمام الحق نے حسنین کا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس کی سپیڈ اچھی ہے اس لیے منتخب کیا گیا ہے اگر سپیڈ ہی کسی کھلاڑی کے ٹیم میں منتخب ہونے کا پیمانہ ہوتی تو اس وقت بھارت کی موجودہ ٹیم کا کوئی بھی تیز گیند باز ٹیم میں نا ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف میچز میں کس بولر کی کارکردگی مثالی تھی؟پھر سزا صرف جنید کو ہی کیوں؟ہر مرتبہ جنید کے ساتھ ہی ناانصافی کیوں؟وہاب کی کون سی تگڑی سفارش تھی جو اسے دور سے نزدیک لے آئی؟عامر کو ہمیشہ کیوں دوسرے لڑکوں پر ترجیح دی گئ جب کہ میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی وجہ سے اسے ٹیم کا حصہ تک نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ اگر انگلینڈ کی سریز ولڈکپ کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب کا پیمانہ تھی تو عابد علی کو صرف ایک ہی میچ کیوں کھیلایا گیا؟
انضمام سے دوسرے سیلکیٹرز کے نسبت ذیادہ بہتر امیدیں وابستہ تھیں۔لیکن وہ بھی بورڈ کے رنگ میں رنگین ہو گیا لگتا ہے انضمام الحق پاکستان کرکٹ ٹیم کی جس سیاست کا دو دہائیوں سے حصہ تھے ابھی تک اسی طریقے پر عمل کر رہے ہیں اور شاید انہوں نے اپنے ولڈکپ میں کپتان عمران خان کی بات کو بہت سنجیدہ لیا ہے کہ جب تک کوئی انسان یو ٹرن نا لے وہ بڑا لیڈر نہیں بن سکتا اسی لیے اب انضمام الحق بھی یو ٹرن پر یو ٹرن لے رہے ہیں تا کہ وہ بڑے چیف سلیکٹر بن سکیں اور اپنے کپتان کے نقش قدم پر چل سکیں ۔ویسے جو حالات چل رہے اللہ ہی وارث ہے ٹیم کا۔دعاوں سے یہ چراغ کب تک جلیں گے ؟

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں