More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس
Latest news
پاکستانی کپتان بابر اعظم کی ورچوئل پریس کانفرنس دبئی: حسن علی کو ڈراپ کرنے کا نہیں سوچ سکتا : بابر اعظم دبئی: حسن علی میرا مین باولر ہے اور میچ ونر ہے : بابر اعظم لاہور: کارکردگی میں اتار چڑھاو آتے ہیں پوری ٹیم اسے سپورٹ کر رہی ہے: بابر اعظم دبئی: کرکٹ میں گیارہ کے گیارہ پلئیرز نہیں پرفارم کرتے: بابر اعظم دبئی: فخر زمان کا جب اچھا دن ہوتا ہے میچ کا پانسہ پلٹ دیتا ہے: بابر اعظم دبئی: میں نے کپتانی میں کھل کر فیصلے کیے ہیں: بابر اعظم دبئی: مجھے ٹیم اچھی ملی اور قیادت کی ذمہ داری سے اچھے نتائج میں مدد ملی: بابر اعظم جس تسلسل سے 5 میچز جیتے اسی تسلسل کو لیکر آگے جائیں ٹی ٹونٹی میں کوئی کمزور ٹیم نہیں ہوتی، سیمی فائنل کافی اہم میچ ہے ہم نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے اب مزید کوشش کرنے کا وقت آگیا ہے بائیو ببل میں ایشوز ہوتے ہیں، ذہنی بوجھ رہتا ہے سپیس چاہے ہوتی ہے منفی اثرات ہوتے ہیں اور وہ منفی اثر گیم پر فرق ڈالتا ہے موجودہ پلئیرز کا گروپ اچھا ہے ہر کھلاڑی ذمہ داری لے رہا ہے اور ہر میچ میں الگ مین آف دی میچ ہوا قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے پاکستانی بن گئے اولمپکس میں خراب کارکردگی؛ صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو استعفے کا حکم کرس گیل نے آئی پی ایل چھوڑنے کا اعلان کردیا پاکستانی کوہ پیما نے تاریخ رقم کردی، دھاولاگیری چوٹی کو بھی سر کرلیا رمیز راجہ نے رزاق اور باسط علی سمیت 6 صوبائی کوچز کو فارغ کرنے کا عندیہ دیدیا کرکٹر عمر اکمل امریکا چلے گئے مصباح اور وقار کیلیے بھاگ جانے کے الفاظ مناسب نہیں، ثقلین مشتاق کرپشن میں سزا یافتہ کھلاڑیوں پر قومی ٹیم کے دروازے ہمیشہ کیلیے بند؟ پی ایس ایل فرنچائزز کو فنانشل ماڈل کی فکر پڑ گئی

قاٸد اعظم ٹرافی بدھ سے دوبارہ شروع ہوگی

قاٸد اعظم ٹرافی بدھ سے دوبارہ شروع ہوگی

قائد اعظم ٹرافی کا آغاز بدھ سے ہو گا
لاہور، 18 اکتوبر 2021:ء
قومی ٹی 20 کی کامیاب تکمیل کے بعد ، 2021-22 سیزن اگلے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ ملک کا پریمیئر کرکٹ ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی بدھ 20 اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے۔

قائد اعظم ٹرافی میں شرکت ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے باعث فخر ہے اس ٹورنامنٹ نے ریڈ بال اسٹارز تیار کیے ہیں جو گولڈن سٹار پہن کر ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہیں۔ کئی سالوں کے دوران ، ٹورنامنٹ نے دلچسپ میچزمنعقد کئے ہیں ، پچھلے سال ک وسطی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان دلچسپ مقابلے کے بعد مشترکہ طور ٹرافی کے حقدار قرار پائے تھے۔

اس سال کرکٹ شائقین کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھیں سکیں گئے، پاکستان کرکٹ بورڈ شائقین کرکٹ کے لیے تمام ونیوز پر اسٹینڈ کھولے گا۔ گراؤنڈ میں داخلہ مفت ہوگا اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ کو ویڈ 19 کا حفاظتی سرٹیفیکٹ رکھنا ہو گا۔

پی سی بی ، بہترین کارکردگی دکھانے والے کرکٹرز کی حوصلہ افزائی 17 ملین روپے کی بطور انعام رکھی ہے،چیمپئن سائیڈ نے 10 ملین روپے اور رنر اپ نے 5 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ ٹاپ پرفارمرزٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی ، بہترین بیٹسمین ، بہترین بولر اور بہترین وکٹ کیپر ہر ایک کو 50000 روپے دیئے جائیں گئے۔ فائنل کے کھلاڑی کو پچاس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

31 میچز پر مشتمل ایونٹ کے پہلے پانچ راؤنڈ چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز کی فرسٹ الیون ٹیموں کے ذریعے فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم ، لاہور کے قذافی اسٹیڈیم اور ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد کیے جائیں گے ، یہ ٹورنامنٹ 24 نومبر کو کراچی منتقل ہو جائے۔

پہلے راؤنڈ میں افتخار احمد کی زیرقیادت خیبر پختونخوا قذافی اسٹیڈیم میں نعمان علی کی ناردرن سے کھیلے گی ، فواد عالم کی سندھ اقبال اسٹیڈیم میں عمران بٹ کے بلوچستان اور ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں پنجاب ڈربی کی میزبانی کرے گا جہاں اظہر علی کی سنٹرل پنجاب اور محمد عباس کی جنوبی پنجاب سے ہو گا۔

فائنل مقابلے سے پہلےاگلے پانچ راؤنڈ یو بی ایل سپورٹس کمپلیکس ، ایس بی پی سپورٹس کمپلیکس اور این بی پی سپورٹس کمپلیکس میں کھیلے جائیں گے ، پانچ روزہ پر مشتمل فائنل 25 دسمبر کو نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد کیا جائے گا۔

قذافی اسٹیڈیم سے قائد اعظم ٹرافی کے تمام ایکشن کو نو کیمرے ہائی ڈیفنیشن پروڈکشن کے ذریعے کور کیا جائے گا۔یہ میچز پی سی بی کے آفیشل یوٹیوب چینل کے ذریعے دنیا بھر میں دیکھا جائے گا۔ آخری پانچ راؤنڈز کا لائیو سٹریم شیڈول مقررہ وقت میں شیئر کیا جائے گا جبکہ فائنل پی ٹی وی سپورٹس پر ٹیلی ویژن پر نشر کیا جائے گا۔

پچھلے سال کے ایڈیشن میں خیبر پختونخوا نے سب سے زیادہ پانچ میچ جیتے تھے اور وسطی پنجاب نے 161 اور 137 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر گروپ مرحلے کو ختم کیا۔ جنوبی پنجاب 129 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ، بلوچستان اور ناردرن نے تین میچ جیت کر 128 اور 123 پوائنٹس حاصل کر کے اپنی مہم کا اختتام چوتھے اور پانچویں نمبر پر کیا اور سندھ جس نے صرف ایک میچ جیتا 87 پوائنٹس کے ساتھ سندھ آخری نمبر پر رہی۔

بلوچستان کے کپتان عمران بٹ:ہم پچھلے دو سیزن میں توقعات کے مطابق نہیں کھیل سکے ، لیکن 2020-2021 کے سیزن میں 2019-20 کے سیزن میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ہم اس کی مزید بہتری جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سال ہمارے اسکواڈ کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ہم نے سی سی اے ٹورنامنٹس میں متاثر کن پرفارمنس کے بعد صوبے کے مقامی کھلاڑیوں کو شامل کیا ہے۔ امام الحق ، حارث سہیل ، جنید خان اور یاسر شاہ میں تجربہ کار کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے سے انہیں کھیل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی ۔
سنٹرل پنجاب کے کپتان اظہر علی نے کہا کہ پچھلا سیزن ہمارے لیے شاندار تھا ہم نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جس کو یاد کیا جائے گا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس سال مسلسل تیسرا فائنل کھیلیں گے اور ٹرافی جیتیں گے۔

خیبرپختونخوا کے کپتان افتخار احمد: ہماری ٹیم اعتماد سے بھری ہوئی ہے کیونکہ ہم اپنے پچھلے سال کی فارم کو اس سال تک کامیابی کے ساتھ بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ہم نے اپنی کرکٹ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے ۔قومی ٹی ٹونٹی ٹائٹل برقرار رکھنے نے ہمارے اسکواڈ کو زبردست طاقت ملی ہے اور ہم سب قائد اعظم ٹرافی کے آغاز کے لیے بے تاب ہیں۔

نادرن کپتان نعمان علی: قائد اعظم ٹرافی ایک ٹورنامنٹ ہے جس میں اسٹارز بنائے جاتے ہیں اور یہ ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اپنا تاثر قائم کیا ہے۔ قومی ٹیم میں میری پیش رفت ایک ایسی مثال رہی ہے اور ٹیم کو میرا پیغام یہ ہے کہ مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں ۔ ہمارے پاس ایک نوجوان اور بہترین اسکواڈ ہے جو کسی بھی صورتحال میں میچ کو اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور میں ان کی قیادت کرنے کا منتظر ہوں۔

سندھ کے کپتان فواد عالم نے کہا کہ ہمارا گذشتہ سال کا سفر ہمارے منصوبے کے مطابق نہیں تھا لیکن ہم نے اس مہم سے سیکھا ہے۔ ہم نے اپنی ٹیم میں فرسٹ کلاس کرکٹرز بنائے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ سال ہمارے لیے مختلف ہوگا۔ قائداعظم ٹرافی میں کامیابی ہمیشہ کنڈیشنز کا کردار اہم ہوتا ہے، مجھے یقین ہے کہ ہم تمام چیلنجز پر قابو پا لیں گے۔

جنوبی پنجاب کے کپتان محمد عباس: شروع سے ہی میچ پر غلبہ حاصل کرنا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے اور ٹورنامنٹ میں اچھا تاثر دینے کے لیے پنجاب ڈربی ایک اچھا پلیٹ فارم ہے ۔ پچھلے سال میں ، ہم صرف آٹھ پوائنٹس کی اہلیت سے محروم ہو گئے۔ پچھلا سیزن ہمارے لیے ایک شاندار سیکھنے کا موقع تھا تھا اور چونکہ ہماری ٹیم بہت بہتر ہوئی ہے۔ ہمارے پاس ایک نوجوان ٹیم ہو سکتی ہے ، لیکن یہ کھلاڑی پرفارم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
-END-

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں