More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس
Latest news
لاہور میرا گھر ہے یہاں پی ایس ایل کھیلنے کیلیے بہت پرجوش ہوں: عمران طاہر ’آفریدی لیجنڈ ہیں، وہی پی ایس ایل کی ٹرافی بھی اٹھائیں گے‘ بوپارہ پی ایس ایل فائیو کی ٹرافی کی رونمائی، افتتاحی میچ کل کراچی میں ہوگا ایم سی سی بمقابلہ ملتان سلطانز ایم سی سی نے ملتان سلطانز کو 72 رنز سے شکست دے دی دونوں ٹیموں کے درمیان ٹی ٹونٹی میچ ایچسن کالج میں کھیلا گیا ایم سی سی نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 184 رنز بنائے روی بوپارہ 70 اور کمار سنگارا 52 رنز بنا کر نمایاں علی شفیق نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جواب میں ملتان سلطانز نے 112 رنز بنائے خوشدل شاہ 45 رنز بناکر نمایاں رہے بوپارہ اور سنگاکارا – رنزوں کا فوارہ، ملتان سلطان کو بھی ڈھیر کردیا قومی کرکٹرز / فٹنس ٹیسٹ سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ این سی اے میں جاری قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ مسلسل دو روز تک جاری رہیں گے فٹنس ٹیسٹ میں کھلاڑیوں کے فیٹ اینالسز، اسٹرینتھ، اینڈیورنس، اسپیڈ اینڈیورنس اور کراس فٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے فٹنس ٹیسٹ کے ابتدائی مرحلہ میں 10 کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لیے جارہے وہاب ریاض، شاداب خان اور محمد عامر کے دو روزہ فٹنس ٹیسٹ 20 جنوری سے شروع ہوں گے ٹائیفائیڈ کے باعث عثمان شنواری کا فٹنس ٹیسٹ بھی دوسرے مرحلے میں ہوگا وائرل انفیکشن کے باعث اظہر علی، محمد رضوان اور اسد شفیق کے فٹنس ٹیسٹ بعد میں لیے جائیں گے فخر زمان اور حسن علی کے فٹنس ٹیسٹ میڈیکل پینل کی کلئیرنس کے بعد ہوں گے سپرلیگ ڈرافٹ میں غیر ملکی کھلاڑی کون سی ٹیم منتخب کریگی لاہور: جنوبی افریقی سپرسٹار ڈیل اسٹین بھی ڈرافٹنگ میں شامل لاہور: انگلینڈ کے سٹار اوپنر بلے بازجیسن روئے بھی ڈرافٹنگ میں اہمیت کے حامل لاہور: معین علی، عادل راشد، ہاشم آملا پر بھی فرنچائزز کی نظر لاہور: افغانستان کے سٹار باؤلر راشد خان اور محمد نبی بھی ڈرافٹنگ فہرست میں شامل لاہور: کولن منرو اور انجیلو میتھیوز سمیت کئی نامور کرکٹرز کا انتخاب آج ہوگا کراچی کنگز نوجوان کرکٹرز کی کارکردگی نکھارنے میں ثابت قدم نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کوچنگ کلینک کا انعقاد کراچی کنگز کے پلیٹ فارم سے جڑے باصلاحیت کرکٹرز کی شرکت کراچی کنگز کے ہیڈکوچ ڈین جونز اور صدر وسیم اکرم نے نیٹ سیشن کرایا لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم نے پیسرز کو سوئنگ کے گر سکھائے ڈین جونز نے سکھایا کنڈیشن کے مطابق کیسےبولنگ اور بیٹنگ کی جاتی ہے کرکٹ لیجنڈز سے ملاقات اور ٹپس ملنے سے کھلاڑیوں کا خواب پورا ہوگیا قومی کرکٹرز / فٹنس کیمپ فٹنس کیمپ 18 نومبر سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں شروع ہوگا 8 روزہ کیمپ 25 نومبر تک جاری رہے گا کیمپ میں شریک کھلاڑی 17 نومبر کو این سی اے میں رپورٹ کریں گے کیمپ کی نگرانی ڈائریکٹر میڈیسن اینڈ اسپورٹس سائنسز پی سی بی ڈاکٹر سہیل سلیم کریں گے محمد عامر، محمد عرفان اور عماد وسیم کیمپ میں شرکت کریں گے اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں شرکت کی غرض سے بنگلہ دیش میں موجود محمد حسنین اور خوشدل شاہ کیمپ میں شرکت نہیں کررہے شعیب ملک، وہاب ریاض اور آصف علی کو کیمپ میں شرکت سے چھوٹ دی گئی ہے تینوں کھلاڑیوں کو جنوبی افریقہ میں جاری مزانسی ٹی ٹونٹی لیگ کے لیے این او سی جاری کئے گئے ہیں ڈین جونز کی جگہ مصباح الحق اسلام آباد یونائٹیڈ کے ہیڈ کوچ ہوں گے

عہد ساز کپتان مشتاق محمد نے نیا سسٹم مسترد کر دیا

عہد ساز کپتان مشتاق محمد نے نیا سسٹم مسترد کر دیا

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مشتاق محمد کا کہنا ہے کہ جدید کرکٹ میں دولت کی ریل پیل نے جنٹل مین گیم کا تاثر تبدیل کر دیا ہے جس کے بعد میچ فکسنگ اور ڈوپنگ جیسی قباحتیں سامنے آ ئی ہیں جن سے کئی کھلاڑیوں کا کیریئر ختم ہو گیا، اب ماضی کے مقابلے میں کرکٹ کی بہتر سہولیات میسر ہیں، مصباح الحق اور بابر اعظم کو ابھی کچھ وقت دینا ضروری ہے،میرے خیال میں ملک کی بائیس کروڑ آبادی کے لئے صرف چھ ٹیمیں ناکافی ہیں، ملک کے معاشی حالات کے پیش نظر ڈیپارٹمنٹ کی کرکٹ کو بند کرنا درست نہیں اسے کسی نہ کسی شکل میں بحال کرنا چاہئے۔ ان خیلات کا اظہار1958سے 1979تک ملک کی نمائندگی کرنے والے لیجنڈ کرکٹر نے گزشتہ روز سجال کے مہمان پروگرام میں بات کرتے ہوئے کیا۔ مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں ستر کی دہائی کی ٹیم بڑے باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جس کے تمام کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے تھے اور مجھے بطور کپتان صرف انکو اکٹھا رکھنا ہوتا تھا۔ س دور میں گراؤنڈز، پچز اور امپائررزسمیت سہولیات بہترنہیں تھیں مگر اب کرکٹ میں جدید سہولیات آ گئی ہیں، ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیکنالوجی کے آنے سے بھی کافی فرق پڑا ہے اور اب کھلاڑی فیصلوں سے بھی مطمئن نظر آ تے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مشتاق محمد نے کہا کہ وسیم خان کے آنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے جو ملک کے لئے اچھا ہے، ڈومیسٹک کرٹ میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں مگر اس میں ابھی کافی تبدیلیاں آ ئیں گی۔ پاکستان کی بائیس کروڑ کی آبادی سے صرف چھ فرسٹ کلاس ٹیمیں بنانا درست فیصلہ نہیں ہے میرے خیال میں بارہ سے پندرہ ٹیمیں ہو نی چاہئیں تاکہ تمام کھلاڑیوں کو موقع مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں کاؤنٹی ٹیموں کی تعداد بھی زیادہ ہے تاہم نیوزی لینڈاور آسٹریلیا میں آبادی کم ہو نے سے ان کی ٹیموں کی تعدد بھی کم ہے۔ پی سی بی کو چاہئے کہ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیموں کو پہلے کی طرح قائد اعظم ٹرافی اور پیٹرنز ٹرافی الگ الگ کر دے یا اس کے لئے گریڈ ٹو ٹورنامنٹ کرائے تاکہ کھلاڑیوں کی کرکٹ اور معاشی مسائل بھی حل ہو جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں مشتاق محمد نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے کھلاڑی ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں، ان کی دوستیاں بھی ہیں تاہم سیاست کی وجہ سے باہمی کرکٹ نہیں ہو رہی جو درست نہیں۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ پاکستان میں گراس والی اور باؤنسی وکٹیں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے کھلاڑی غیر ملکی دوروں پر بھی بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھا کھلاڑی کسی نہ کسی طریقہ سے غیر ملکی کنڈیشنز میں ایڈجسٹ کر کے کارکردگی دکھا لیتا ہے جو اوسط کھلاڑی نہیں کر پاتا۔ اپنے ماضی کو یاد کرت ہوئے مشتاق محمد نے کہا کہ1977میں ان کا دورہ آسٹریلیا بہت اچھا رہا جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز ان کے کیریئر کی سب سے بہتر تھی مگر واپس آ کر مجھے کپتانی سے ہٹا کر دورہ بھارت سے ڈراپ کر دیا گیا جس کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ سکی۔ سابق کپتان نے سرفراز نواز کو بھی خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے آسٹریلیا کے خلاف ہمیں ہارا ہوا میچ نو وکٹ لے کر جتوا دی اور وہ ہمیشہ ہی ایک عظیم باؤلر رہا۔ اس سے قبل مشتاق محمد کی سجال آفس آنے پر انہیں گلدستہ پیش کیا گیا اور یاد گار شیلڈ بھی دی گئی۔

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں