More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس
Latest news
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شعیب ملک نے تمام پاکستانی کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیا نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں ناقص کارکردگی عمران فرحت کو بلوچستان ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا سدرن پنجاب سے بلاول بھٹی، محمد عرفان اور راحت علی ڈراپ دلبر حسین، محمد عمران اور زین عباس کو اسکواڈ میں شامل آف اسپنر بلال آصف سنٹرل پنجاب سے ڈراپ عبدالواحد سمیت پانچ کھلاڑیوں کو سیکنڈ الیون نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں عمدہ کارکردگی کا صلہ مل گیا کوئٹہ کے سترہ سالہ کرکٹر کو عمران فرحت کی جگہ بلوچستان فرسٹ الیون میں شامل کرلیا گیا نوجوان بیٹسمین محمد اخلاق بھی سنٹرل پنجاب کے بلال آصف کی جگہ اسکواڈ میں شامل سدرن پنجاب نے راحت علی، محمد عرفان اور بلاول بھٹی کی جگہ زین عباس، دلبر حسین اور محمد عمران کو راولپنڈی طلب کرلیا قومی کرکٹ کو سدھارنے کے نسخے تیار ہونے لگے گرانٹ بریڈ برن نے اپنی پریزینٹیشن میں کوچز کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اوپنر احمد شہزاد نے جم ورک اور رننگ کے بعد اب بیٹنگ ٹریننگ کا بھی آغاز کردیا قومی ٹیم کی مصروفیات؛ بنگلادیشں سے ملتوی ٹیسٹ رواں سیزن میں نہیں ہوسکے گا نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان سیریز کے شیڈول کا اعلان پاکستان کرکٹ ٹیم دسمبر اور جنوری میں نیوزی لینڈ میں 3 ٹی ٹوئنٹی اور 2 ٹیسٹ میچ کھیلے گی بریکنگ ۔۔ بریکنگ ۔۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک اور مشکل ميں پڑگيا ڈپارٹمنٹ کرکٹ کیوں بحال نہیں کی ؟ کرکٹ کميٹی کے سربراہ اقبال قاسم بورڈ پر برہم ، ذرائع کرکٹ کميٹی سربراہ بورڈ سے ناراض ، کام کرنے سے انکار کردیا ، ذرائع عہدہ چھوڑ رہا ہوں ، اقبال قاسم نے بورڈ کو آگاہ کرديا ، ذرائع اقبال قاسم کا چيئرمين احسان مانی سے رابطہ نہ ہوسکا ، ذرائع کرکٹ کميٹی کے چيئرمين نے ذاکر خان کو فون پر مطلع کيا اقبال قاسم نے کام جاری نہ رکھنے کی ای ميل بورڈ کو کردی ہم اس سے زیادہ سکور کرسکتے تھے، یونس خان لاہور: وکٹیں ہماری ہاتھ میں تھی 200 سے زیادہ سکور ہوتا تو بہت اچھا تھا، یونس خان لاہور: انگلینڈ نے بہترین بلے بازی کی، یونس خان لاہور: ہمارے باولر انڈر پریشر آگئے، یونس خان لاہور: اظہر نروس ہوتے تھے کہ میری ٹانگ پر گیند نہ لگے، یونس خان لاہور: میں نے صرف ان کا ٹاپ ہینڈ درست کروایا، یونس خان لاہور: کوچنگ میں یہ ضروری ہوتا ک کھلاڑی آپ پر بھروسہ کرے، یونس خان لاہور: میں نے اظہر کو سمجھایا، اس نے عملدرآمد کیا، یونس خان لاہور: بابراعظم کافی عرصہ سے کپتانی کررہا ہے، یونس خان لاہور: ڈریسنگ روم میں ہرکوئی اپنی اپنی آراں دیتا ہے، یونس خان لاہور: کپتان کو اپنے اوپر اعتماد ہونا چاہیے، یونس خان لاہور: کپتان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہیے، یونس خان لاہور: ڈرنا نہیں چاہیے، فیصلے غلط بھی ہوجائے تو کوئی بات نہیں، یونس خان لاہور: ڈائری ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہوں، یونس خان لاہور: اپنے آپ کو مصروف رکھنے کیلئے ڈائری لکھتا ہوں، یونس خان لاہور: میں نے اپنے آپ کو کافی تبدیل کیا ہے، یونس خان لاہور: محمد حفیظ کے ساتھ بہت کام کیا ہے، یونس خان لاہور: گالف کھیلتے وقت بھی اسکو ایڈوائز کرتا رہا، یونس خان لاہور: میں تو یاسر شاہ کے بال بھی بناتا رہا ، یونس خان لاہور: مرحوم کوچ باب وولمر میرے ساتھ ایسا کرتے تھے، یونس خان لاہور: باب وولمر میرے لیے باپ جیسے تھے، یونس خان لاہور: کھلاڑیوں کے ساتھ گھل مل جانے سے آپ اسکی خامیوں پر کام کرسکتے ہیں، یونس خان

ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کا وعدہ وفا نہ کرنے پر اقبال قاسم کا استغفی

ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کا وعدہ وفا نہ کرنے پر اقبال قاسم کا استغفی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سےاقبال قاسم کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔ان کے متبادل کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔

تین ستمبربروز جمعرات کو بھیجے گئے اپنے استعفیٰ میں اقبال قاسم نے لکھا :(وہ ایک) ڈمی چیئرمین ہیں جو ایک مستحق میچ ریفری بھی تجویز نہیں کرسکتا ۔کرکٹ کھیلنے والےایسے کرکٹرزجو اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہیں ان کےساتھ ناانصافی دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔

پی سی بی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ یہ واقعی افسوسناک ہے کہ اقبال قاسم جیسی صلاحیتوں کے حامل ایک نامور، تجربہ کار کرکٹررضاکارانہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دے۔بطور کھلاڑی اور ایک ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے کرکٹ کے لیے ان کی خدمات شاندار ہیں۔ پی سی بی ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اوران کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔

تاہم پی سی بی کو مایوسی ہے کہ اس کی کرکٹ کمیٹی کا چیئرمین میرٹ اورایک آزادانہ پینل کے فیصلے کا احترام کرنے کی بجائے اپنی “تجویز”پر عمل نہ کیے جانے پر استعفیٰ دے رہا ہے۔

پی سی بی کے لیے یہ سمجھنا بھی تکلیف دہ ہے کہ جب اقبال قاسم نے 31 جنوری 2020 کو کرکٹ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالا تو اس وقت پی سی بی کے نئے آئین 2019 ،جوکہ 19اگست 2019 سے نافذ العمل تھا،کے تحت اس میں ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کا کردار پہلے ہی ختم ہوچکا تھا۔

لہٰذا، جب انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا تو وہ جانتے تھے کہ جس نئے نظام اور ڈھانچے کے تحت یہ نئی انتظامیہ اپنا کام کررہی ہے وہاں ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔پی سی بی کو امید تھی کہ ایک کارپوریٹ ادارے میں کام کرتے ہوئے اقبال قاسم اس کے آئین کی پاسداری کریں گے۔

بہرحال، اقبال قاسم پاکستان کرکٹ کےایک وفادار خادم ہیں اورہمیں امید ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے۔

آئی سی سی اور ایم سی سی کی کرکٹ کمیٹیز کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی بھی ایک مشاورتی باڈی ہے۔اس کی ذمہ داری ، چیئرمین پی سی بی کو کرکٹ سے متعلق معاملات پر مشورہ دینا ہے، جس میں قومی کرکٹ ٹیموں اور ان کی منیجمنٹ کی کارکردگی، ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر،ہائی پرفارمنس سینٹرز اور پلیئنگ کنڈیشنزشامل ہیں۔کمیٹی کو اختیار ہےکہ وہ متعلقہ افراد کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی غرض سے انہیں سہ ماہی بنیادوں پر ہونے والے اپنے اجلاسوں میں بلاسکتے ہیں۔

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں