More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس
Latest news
بریکنگ ۔۔ بریکنگ ۔۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک اور مشکل ميں پڑگيا ڈپارٹمنٹ کرکٹ کیوں بحال نہیں کی ؟ کرکٹ کميٹی کے سربراہ اقبال قاسم بورڈ پر برہم ، ذرائع کرکٹ کميٹی سربراہ بورڈ سے ناراض ، کام کرنے سے انکار کردیا ، ذرائع عہدہ چھوڑ رہا ہوں ، اقبال قاسم نے بورڈ کو آگاہ کرديا ، ذرائع اقبال قاسم کا چيئرمين احسان مانی سے رابطہ نہ ہوسکا ، ذرائع کرکٹ کميٹی کے چيئرمين نے ذاکر خان کو فون پر مطلع کيا اقبال قاسم نے کام جاری نہ رکھنے کی ای ميل بورڈ کو کردی ہم اس سے زیادہ سکور کرسکتے تھے، یونس خان لاہور: وکٹیں ہماری ہاتھ میں تھی 200 سے زیادہ سکور ہوتا تو بہت اچھا تھا، یونس خان لاہور: انگلینڈ نے بہترین بلے بازی کی، یونس خان لاہور: ہمارے باولر انڈر پریشر آگئے، یونس خان لاہور: اظہر نروس ہوتے تھے کہ میری ٹانگ پر گیند نہ لگے، یونس خان لاہور: میں نے صرف ان کا ٹاپ ہینڈ درست کروایا، یونس خان لاہور: کوچنگ میں یہ ضروری ہوتا ک کھلاڑی آپ پر بھروسہ کرے، یونس خان لاہور: میں نے اظہر کو سمجھایا، اس نے عملدرآمد کیا، یونس خان لاہور: بابراعظم کافی عرصہ سے کپتانی کررہا ہے، یونس خان لاہور: ڈریسنگ روم میں ہرکوئی اپنی اپنی آراں دیتا ہے، یونس خان لاہور: کپتان کو اپنے اوپر اعتماد ہونا چاہیے، یونس خان لاہور: کپتان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہیے، یونس خان لاہور: ڈرنا نہیں چاہیے، فیصلے غلط بھی ہوجائے تو کوئی بات نہیں، یونس خان لاہور: ڈائری ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہوں، یونس خان لاہور: اپنے آپ کو مصروف رکھنے کیلئے ڈائری لکھتا ہوں، یونس خان لاہور: میں نے اپنے آپ کو کافی تبدیل کیا ہے، یونس خان لاہور: محمد حفیظ کے ساتھ بہت کام کیا ہے، یونس خان لاہور: گالف کھیلتے وقت بھی اسکو ایڈوائز کرتا رہا، یونس خان لاہور: میں تو یاسر شاہ کے بال بھی بناتا رہا ، یونس خان لاہور: مرحوم کوچ باب وولمر میرے ساتھ ایسا کرتے تھے، یونس خان لاہور: باب وولمر میرے لیے باپ جیسے تھے، یونس خان لاہور: کھلاڑیوں کے ساتھ گھل مل جانے سے آپ اسکی خامیوں پر کام کرسکتے ہیں، یونس خان لاہور: ہم اس سے زیادہ سکور کرسکتے تھے، یونس خان لاہور: وکٹیں ہماری ہاتھ میں تھی 200 سے زیادہ سکور ہوتا تو بہت اچھا تھا، یونس خان لاہور: انگلینڈ نے بہترین بلے بازی کی، یونس خان لاہور: ہمارے باولر انڈر پریشر آگئے، یونس خان یٹنگ کوچ قومی کرکٹ ٹیم یونس خان کی ویڈیو لنک پریس کانفرنس لاہور: دو ماہ ہوگئے ہیں انگلینڈ آئے ہوئے، یونس خان لاہور: دن رات محنت کی ہے، یونس خان لاہور: بلے بازوں کے ساتھ کام کیا، یونس خان لاہور: باولرز کو وقت دیا ہے، یونس خان لاہور: اس دوران مشکل وقت میں بھی بڑا تعاون کیا، یونس خان لاہور: شان مسعود اور اظہر علی نے اچھی بلے بازی کی، یونس خان لاہور: بابر اعظم نے ففٹی سکسٹی کرتے رہے، یونس خان لاہور: محمد رضوان کی پرفارمنس سے بہت خوشی ہوئی، یونس خان لاہور: کل کا ٹی ٹوئنٹی میچ ہم نے بہت اچھا کھیلا، یونس خان لاہور: ہمارے 10 سے 15 رنز کم رہ گئے، یونس خان لاہور: مجھے کافی مثبت چیزیں نظر آرہی ہے، یونس خان محمد عامر کی ہمت 2 اوورز بعد ہی جواب دے گئی بابراعظم دوسرے میچ میں اچھے ٹوٹل کے باوجود شکست پر مایوس راشد لطیف کو رضوان میں مستقبل کے کپتان کی جھلک نظر آنے لگی محمد عامر انجری محمد عامر دوسرے ٹی ٹونٹی کے دوران ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوئے محمد عامر کی ہیمسٹرنگ انجری کا جائزہ لیا جائے رہا ہے ۔ پی سی بی محمد عامر کی انجری کی نوعیت کے بارے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہو گا۔ پی سی بی محمد عامر کو ابتدائی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔ پی سی بی ٹی ٹوئنٹی کپتان بابر اعظم / سمرسیٹ معاہدہ لاہور۔ کپتان قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کا سمرسیٹ کاونٹی سے معاہدہ طے پاگیا لاہور۔ پی سی بی نے بابر اعظم کو انگلینڈ ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کپ میں کھیلنے کی اجازت دے دی لاہور۔ بابر اعظم دورہ انگلینڈ کے فوری بعد سمر سیٹ کاونٹی کو جوائن کرینگے لاہور۔ بابر اعظم 2 ستمبر سے 4 اکتوبر تک سمرسیٹ کی نمائندگی کرینگے لاہور۔ بابر اعظم لیگ کے آخری 7 میچز اور ناک آوٹ راونڈ کے لئے دستیاب ہونگے لاہور۔ پچھلے سال کی نسبت یہ سال کھیل کے لئے مختلف ہے، بابر اعظم لاہور۔ ہمیں اس بدلتی صورتحال میں اپنے آپ کو ڈھالنا ہوگا، بابر اعظم لاہور۔ میں بہت شکرگزار ہوں کے ہم سب نے ملکر کھیل کو دوبارہ آباد کیا، بابر اعظم ٹیسٹ کپتان اظہر علی انگلش باؤلرز کو ہوم کنڈیشنز میں باؤلنگ کا تجربہ ہے نسیم شاہ اور شاہین شاہ افریدی ابھی فرسٹ کلاس کرکٹ ذیادہ نہیں کھیلے محمد عباس انگلش کنڈیشنز میں باؤلنگ کا تجربہ رکھتے ہیں دبئی میں بغیر شائقین کے بہت عرصہ کھیلا انگلینڈ میں پاکستانی شائقین بیت آتے ہیں ان کو کافی یاد کیا شائقین کے نہ ہونے سے کارکردگی متاثر نہیں ہوئی

ہیڈ کوچ کی ہر کھلاڑی کے بارے سوچ

ہیڈ کوچ کی ہر کھلاڑی کے بارے سوچ
نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

• قومی ٹیم مستقبل میں بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہے، مصباح الحق

لاہور، 31دسمبر2019:

سال 2019 میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی ملی جلی رہی۔

پاکستان نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پہلی کامیابی سال کے اختتام پر سری لنکا کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں حاصل کی تاہم اس سے قبل قومی ٹیسٹ ٹیم جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے خلاف متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی۔

قومی ٹیم نے آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے گروپ مرحلے میں مسلسل چار میچز جیتے تاہم وہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی۔ ایک روزہ کرکٹ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف شکست کھانے والی قومی کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں کامیابی حاصل کی۔

رواں سال پاکستان نے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی تاہم اس دوران پاکستان کو جنوبی افریقہ، انگلینڈ، سری لنکا اور آسٹریلیا سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے بعد مصباح الحق نے قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالا۔ اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے 2 ایک روزہ، 5 ٹی ٹونٹی اور 4 ٹیسٹ میچز کھیلے۔

مصباح الحق، ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر قومی کرکٹ ٹیم:

قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہےکہ سال 2019 قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے لیے ایک مشکل سال تھا، گو کہ پاکستان کرکٹ ٹیم رواں سال کے اختتام پر سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب رہی مگر اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے دوروں پر متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔

مصباح الحق نے کہا کہ رواں سال قومی کرکٹ ٹیم محدود اوورز کی کرکٹ میں بھی زیادہ کامیابیاں حاصل نہیں کرسکی، جس کی ایک بڑی وجہ اہم میچز سے قبل قومی کرکٹرز کا آؤٹ آف فارم ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک روزہ کرکٹ میں فخر زمان قومی کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کا اہم ہتھیار تھے مگر ورلڈکپ سے قبل انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ان کی کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔

چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ باؤلرز میں حسن علی اور شاداب خان کی فارم خراب ہونے کے باعث قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم رواں سال آئی سی سی ٹی ٹونٹی ٹیمز رینکنگ میں تو اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی مگر اس فارمیٹ میں بھی ٹیم کی جیت کا تناسب کم رہا۔ پاکستان ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم رواں سال صرف ایک ٹی ٹونٹی میچ ہی جیت سکی۔

مصباح الحق نے کہا کہ سال بھر کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اس دوران قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی شاندار رہی، جس میں سب سے بڑا نام بابراعظم کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابراعظم نے تینوں فارمیٹ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ٹی ٹونٹی کرکٹ کے صف ِ اول کے بلے باز بابراعظم نے ایک روزہ کرکٹ میں بھی عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا جس کی ایک مثال آئی سی سی ورلڈکپ 2019 میں ان کی بیٹنگ رہی۔ مصباح الحق نے کہا کہ بابراعظم نے رواں سال ٹیسٹ کرکٹ میں بھی جو کارکردگی دکھائی وہ ان کی کلاس کے عین مطابق ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں سنچری اسکور کرنا اور سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے دونوں میچوں میں سنچریاں جڑنا بھی بابراعظم کی صلاحیتوں کا عملی نمونہ رہا۔

چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم نے نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کو سال 2019 میں قومی کرکٹ ٹیم کے بہترین باؤلرز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی کی آئی سی سی ورلڈکپ 2019 سے لے کر آسٹریلیا کی پچز اور پھر سری لنکا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی شاندار رہی۔ مصباح الحق نے کہا کہ نسیم شاہ کی آسٹریلیا اور پھر سری لنکا کے خلاف باؤلنگ میں ایک بہتر فاسٹ باؤلر کی جھلک نظر آئی۔

مصباح الحق نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کو جتنے زیادہ میچز ملیں گے ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ طویل طرز کی کرکٹ میں محمد رضوان کی کارکردگی نمایاں رہی، اسی طرح افتخار احمد کی آسٹریلیا میں کارکردگی متاثر کن رہی۔

مصباح الحق نے کہا کہ رواں سال ٹیم کے انتخاب اور فائنل الیون کے چناؤ کے حوالے سے جو فیصلے لیے گئے وہ آسان نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان فاسٹ باؤلرز کو آسٹریلیا میں کھیلانا مشکل فیصلہ تھا۔ مصباح الحق نے کہا کہ فخر زمان، حسن علی اور یاسر شاہ کی فارم خراب ہونے کے باعث ٹیم کی کارکردگی پر اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد اور شعیب ملک کی فارم کا نہ ہونا سمیت کئی اہم ایشوز عہدہ سنبھالتے ہی ان کے سامنے کھڑے تھے۔

مصباح الحق نے کہا کہ مستقبل میں بہترین نتائج کے حصول کے لیے کام جاری ہے جس کے رزلٹ آہستہ آہستہ سب کے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اصل ہدف قومی کرکٹ ٹیم کو تینوں فارمیٹ میں وننگ ٹریک پر گامزن کرنا ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ قومی ٹیم مستقبل میں بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہے۔

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں