More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
icon تابی لیکس
Latest news
کرکٹر فخر زمان کی میڈیا سے گفتگو لاہور: گرمی میں کھیلنے کے عادی ہیں باؤلرز کو تھوڑی مشکلات ہوتی ہے لاہور: ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کیلئے تیاریاں جاری ہیں لاہور: چاہتا ہوں کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹاپ سکورر بنوں لاہور: ہمارے شائقین کرکٹ نے آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو بھی بہت سپورٹ کیا لاہور: کافی عرصے بعد کسی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا جو خوش آئند ہے لاہور: کنڈیشننگ کیمپ میں بھاگ دوڑ زیادہ ہوتی ہے لاہور: کیمپ میں زیادہ تر فٹنس پر کام ہوتا ہے لاہور: رمیز راجہ نے ملاقات میں کافی سپورٹ کیا لاہور: اچھی بات یہ ہے کہ رمیز راجہ نے معاوضہ بڑھانے کا کہا لاہور: چاہتا ہوں ڈالر میرا 210 رنز کا ریکارڈ نہ توڑے لاہور: معاوضوں کے بڑھنے سے ہماری کرکٹ کو فائدہ ہوگا لاہور: ہمارا سارا فوکس اس وقت ویسٹ انڈیز کے خلاف ہے لاہور: پروفیشنل کھلاڑی ہر طرح کی صورتحال کیلئے تیار ہوتے ہیں لاہور: بابر اعظم اور محمد رضوان اوپننگ میں اچھا کررہے ہیں ڈراپ ان پچز کا چیپٹر کلوز، اب نیشنل اسٹیڈیم اور قذافی اسٹیڈیم میں نئی پچز تیار ہونگی چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ کی ہدایت پر کیوریٹرز اور گراونڈ اسٹاف نے پچز کی تیاری کا کام شروع کردیا قذافی اسٹیڈیم اور نیشنل اسٹیڈیم میں تین پچز نئی تیار کی جائیں گے ایک پچ کو چھوٹی گھاس، دوسری کو آسٹریلین باونسی اور تیسری پچ کو لو باونسی ٹریک بنایا جائے گا آسٹریلیوی مٹی کی بدولت پچ سخت اور باونسی ہوگی آسٹریلیا میں ورلڈ کپ کو مدنظر رکھ کر آسٹریلیا کنڈیشن کی پچ تیار کی جائے گی تیرہ پچز کو اکھاڑ کر دوبارہ انکی مرمت کی جائے گی آسٹریلیا کا دورہ پاکستان پر پچز پر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا قذافی اسٹیڈیم اور نیشنل اسٹیڈیم کے گھاس کو بھی تبدیل کیا جائے گا دونوں اسٹیڈیمز میں برمودہ ڈھاکہ گراس لگایا جائے گا سابق ٹیسٹ کرکٹر شاہد محبوب ہائی پرفارمنس سینٹر کراچی کے سربراہ مقرر سابق کرکٹر وسیم حیدر ہائی پرفارمنس سینٹر ملتان کے سربراہ مقرر شاہد محبوب نے ایک ٹیسٹ اور 10 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی 1992 ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کے رکن وسیم حیدر نے 132 فرسٹ کلاس میچز کھیل رکھے ہیں وہ انضمام الحق کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کے رکن بھی تھے عمران عباس کو جنرل منیجر نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور مقرر کردیا گیا ہے وہ اس سے قبل ہائی پرفارمنس سینٹر ملتان کے سربراہ تھے اس کے علاوہ توفیق احمد کو سندھ کرکٹ ایسوسی ایشن کا چیف ایگزیکٹو تعینات کردیا گیا ہے انہوں نے آئی بی اے سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کررکھی ہے 16 سالہ احسن رمضان کم عمر ترین ورلڈ اسنوکر چیمپیئن بن گئے اس طرح کی وکٹیں بنائیں گے تو کون کھیلنے آئے گا؟ شعیب اختر پاکستان میں رہوں گا میرے کپڑے بھجوا دیں، غیر ملکی تماشائی کا اپنی والدہ کو پیغام آسٹریلوی کرکٹر مارنوس پاکستانی دال روٹی کے فین ہوگئے شاہد آفریدی اپنے ہونے والے داماد کی پرفارمنس کے گُن گانے لگے رونالڈو کی ہیٹ ٹرک، دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر بن گئے ہم نے ایسے اسپیل بہت دیکھے ہیں’، قومی بیٹنگ کوچ محمد یوسف

عدم برداشت، وجوہات اور حل

عدم برداشت، وجوہات اور حل
پچھلے دنوں کہیں پڑھا کہ ماہر عمرانیات کے مطابق ہمارے معاشرے کے نوے فیصد جرائم و بدامنی کی وجہ عدم برداشت ہے۔
صبح سے شام تک گھروں دفاتر میدانوں چوراہوں سڑکوں مساجد بازار اور سوشل میڈیا تک اگر آپ بغور مشاہدہ کریں تو آپکو اکثرئیت میں رواداری کا فقدان اور خود غرضی کی کثرت ملے گی۔لوگو پر تھوڑا غور کریں تو وہاں چہروں پر کرختگی اور لہجوں میں تلخی واضح ملے گی۔تعمیر کے بجائے تخریب ہمارے اندر رچ بس گئی ہے۔

اخلاق کی بنیادیں خندہ پیشانی مسکراہٹیں بردباری میانہ روی ملنساری صبر و تحمل احترام ادب جیسی خوبیاں ہم لوگوں میں ڈھونڈے نہیں ملتیں۔عدل و انصاف جسکا قرآن پاک میں حکم دیا گیا ہمارا اس سے واسطہ ہی نہیں۔
جب یہ سب اوصاف معاشرے سے ختم ہوں گے تو ان کی جگہ غصہ عدم برداشت شدت پسندی جارحانہ پن اور لاقانونیت پھلے پھولے گی

تضحیک بھونڈے مزاق دل آزاری طعنے تہمت ہمارے معاشرے کا خاصہ بن چکی ہیں
اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو نظر انداز کرتے ہوئے پتھر کا جواب مسکراہٹ برداشت سے دینے کے بجائے اینٹ سے دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
ہمیں کوئی ایک سنائے تو اسکو دو سنائے بغیر تو ہمیں چین ہی نہیں ملتا بھلے وہ کوئی اجنبی ہو یا اپنا قریبی ہو۔لوگ معمولی باتوں پر ہوش و حواس کھو دیتے ہیں اور دوسرے کو جان سے مارنے تک آ جاتے ہیں۔
ہم انسانیت کو سامنے رکھنے کے بجائے رنگ نسل مسلک قومیت صوبائیت کو بنیاد بنا کر عدم برداشت کا رویہ اپنا کر معاشرے میں نفرت کی فصل کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
عدم برداشت ہماری زندگیوں میں خود غرضی خودپسندی اور غرور کی وجہ سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ہماری نظر میں ہم خود ہمارا نظریہ ہماری سوچ ہماری رائےاور ہمارا عقیدہ ہی برتر اور درست ہے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ دوسرا شخص وہی سوچے جو ہم سوچ رہے ہیں۔یہ کیسے ممکن ہے؟ہر انسان کی فطرت سوچ سمجھنے کی صلاحیت پسند نا پسند مختلف ہوتی ہے۔ہم ایک ہی وقت میں وکیل گواہ اور منصف بن جاتے ہیں
آئے روز سوشل میڈیا پر کسی بھی سیاسی مزہبی پوسٹ پر لوگ ایک دوسرے کی رائےکو پاوں تلے روند کر اپنے خیالات کی پگ اونچی کرنے کو بےتاب نظر آتے ہیں۔اس کام میں وہ گالم گلوچ اور نفرت آمیز الفاظ استعمال کرنا اپنی زہانت سمجھتے ہیں۔

اگر ہم معاشرتی و اجتماعی سطح پر عدم برداشت کا حل چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ دوسروں کو سنیں۔ کسی کے طعن و تشنیع کا جواب مسکراہٹ یا خاموشی سے دیں۔جو خوبیاں آپ سمجھتے ہیں کہ آپ میں ہیں ان کی دوسروں کی ذات میں بھی موجود ہونے پر توقع و یقین کریں

دوسروں کی رائے کا احترام کریں، بحث، اور جارحانہ رویے اختیار کرنے کے بجائے فراخ دلی کا مظاہرہ کریں۔تنقید برائے اصلاح کریں اگر کسی کو قائل کرنا ہے تو غصے کے بجائے دلائل کا سہارا لیں۔ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں بڑے چھوٹے کی تمیز رکھیں ریاستی قوانین کی پابندی کریں ہر بات کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو جانچیں اور اس کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کریں تو یقیناً آہستہ آہستہ معاشرہ بہتری کی جانب گامزن ہو گا۔
ورنہ معاشرے کا یہ بگاڑ ملک قوم معاشرے کے زوال و تباہی کا باعث بنے گا

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں

adds

متعلقہ خبریں