ہمارے بارے میں

سچ کے سفر میں مشکلات پر سکون بہت ہے

دوستو پاکستان میں جیو نیوز کے علاوہ کوئی بھی چینل کھیل کی اہمیت سے ناآشنا ہے بالکل ہماری حکومتوں حتکہ کھیلوں کی اداروں کی طرح،، البتہ چند اخبار سپورٹس جرنلزم میں قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں

میرا قطعا کسی صحافی کی دل آزاری کرنا مقصود نہیں، جیسے گھر کے نالائق بچے کو مدرسے میں داخل کروا دیا جاتا ہے، ہوبہو اسی طرح چینل کے اکثر نااہل رپورٹروں کو شعبہ کھیل سونپ دیا جاتا ہے، کھیل سے نا آشنائی کی بنا پر وہ ایسے ایسے سوال کر جاتے ہیں کہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے

میری سپورٹس جرنلزم میں آمد حادثاتی یا نا اہل رپورٹر کے طور پر نہیں، بلکہ سچ کی نشاندہی کے لیے تھی

میں اپنے اس سچ کے سفر کو تین حصوں میں تقسیم کرکے بتانا چاہوں گا کہ کانٹوں بھرا سفر کیسے طے کیے جا رہا ہوں، ہاں منزل کا مجھے پتہ ہے
بہت ہی چھوٹی عمر سے کلب کرکٹ کا آغاز کیا، ساہیوال میں بھارت کے خلاف انڈرنائیٹین میچ کی نمائندگی کا موقع ملا، اس میچ میں چیف سلیکٹر انضمام
الحق،مشتاق احمد،ظہور الہی، مجاہد جمشید اور گلوکار و نعت خواں نجم شیراز بھی شامل تھے

national-juniors

اسی سال سرگودھا میں ہونے والے سری لنکا اے اور کمشنر الیون میں بھی نمائندگی کا موقع ملا، مگر ایسوسی ایشن کا ناپسندیدہ ہونے کی بنا پر گیارہ میں شامل نہ کیا گیا

long-hairs

میرے دوست حبیب سلیمی نے مجھے کھیلوں کی زبوں حالی پر لکھنے کو اکسایا چنانچہ حبیب سلیمی اور میں نے سرگودھا میں سپورٹس جرنلزم کی داغ بیل ڈالی، عدالتوں کا سامنا کیا، میرے انٹرنیٹ کلب پر تحصیل ناظم چھاپے مروائے مگر سچ کا سفر رکوا نہ سکا، البتہ اس کا سیاسی سفر اپنی موت آپ مر گیا، ایف ایم ترانوے ریڈیو پاکستان شروع ہوا تو مسلسل پانچ سال پروگرام کھیل اور کھلاڑی پیش کیا

radio-sargodha

شعبہ کرکٹ کوچنگ میں آیا تو سرگودھا کو فیصل آباد سے جیتنے کی عادت ڈال دی، فیصل آباد ریجن ویمن ٹیم جونیئر نیشنل چیمپیئن شپ میں پہلی دفعہ رنر اپ قرار پائی، کراچی میں ہونے والے نیشنل کواٹرینگولر ویمن چیمپیئن شپ میں پاکستان ویمن گرینز کا کوچ بنا جسکی کپتان اسماویہ اقبال تھیں، مگر نیشنل کرکٹ اکیڈیمی میں نوازنے کا رجحان دیکھ کر کوچنگ کو الوداع کہہ دیا

33845_10151556626706547_340612764_n

انتہائی محترم امجد وڑائچ میری صحافتی خدمات سے واقف تھے لہذا انہوں نے مجھے نیوز ون ٹی وی میں سپورٹس رپورٹنگ کا موقع دیا، جہاں لگ بھگ چھ سال رپورٹر اور اینکر کی خدمات سرانجام دیں، ایک انتہائی موقع پرست خود ساختہ رانا کی محبت میں نیوز ون سے استغفی دیا، مگر آٹھ ماہ بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا، ڈان نیوز ٹی وی اٹھارہ ماہ کام تو پائے کا کیا، مگر شاید وہاں کے بڑوں اچھے کام کی بجائے کچھ ایسا مطلوب تھا جو میرے ضمیر کا سودا کرنے کے مترادف تھا اور وہ آپ سب جانتے ہیں کہ ممکن نہ تھا

بہت سوچنے کے بعد یہ میرا ذاتی فیصلہ تھا کہ اپنی ویب سائٹ میدان میں اتاری جائے اور کسی دباو کے بغیر کام کیا جائے، نکل پڑا ہوں، پیش آنے والی مشکلات سے واقف ہوں اور ان سے نپٹنے کے لیے بھی تیار

اس تحریر کا مقصود محض ایک ہے کہ نہ تو میں حادثاتی، دیہاڑی دار اور سب اچھا لکھنے والا صحافی نہیں، نہ تو میرا کوئی ذاتی ایجنڈا ہے اور نہ ہی کسی دیے گئے پیڈ ایجنڈے کو پکڑتا ہوں، کھیل، کھلاڑی اور گراونڈ میرے بہترین دوست ہیں اور اپنے دوستوں کی عظمت میں اضافے کے لیے جو کر سکتا ہوں، اس سے نہ تو کوئی اعلی عہدیدار، کوئی پی آر او یا سرمایہ دار روک سکتا ہے

آپ سب کے لیے دعا گو
آفتاب احمد تابی
چیف ایڈیٹر
پی سی بی لیول ٹو کوچ