More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
logo
. . .
icon تابی لیکس
Latest news
ورلڈکپ کے فیصلہ کن معرکے کیلئے ٹریننگ، میسی نے سالگرہ نہیں منائی ٹی20 میں کوئی ٹیم کمزور نہیں ہوتی، سہ ملکی سیریز آسان نہیں، سرفراز کرکٹ ایشیا کپ ‘ پاکستان اور بھارت کا ٹکراؤ 21 ستمبر کومتوقع پاکستان، متحدہ عرب امارات کرکٹ بورڈز کے درمیان مذاکرات کا کامیاب، معاوضوں میں کمی پر رضامند ی سی بی کے مطابق زمبابوے کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی۔ کھلاڑیوں میں فخرزمان، امام الحق، محمد حفیظ، شعیب ملک، بابر اعظم، آصف علی، سرفراز احمد، محمد نواز، شاداب خان، جنید خان، فہیم اشرف، محمد عامر، عثمان خان شنواری، یاسر شاہ ، حسن علی اور حارث سہیل شامل ہوں گے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد احمد شہزاد کو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے ڈراپ کردیا گیا۔ ٹی ٹوئنٹی ٹرائی انگیولر سیریز میں فخر زمان، محمد حفیظ، شعیب ملک، آصف علی، حسین طلعت، سرفراز احمد، حارث سہیل، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، محمد عامر، حسن علی اور عثمان شنواری کو شامل کیا گیا ہے۔ سری لنکا سے مقابلے، جنوبی افریقی اسپنر عمران طاہر کو نظر انداز کردیا گیا قومی ہاکی ٹیم نے آسٹریا کیخلاف سیریز 0-2 سے جیت لی

سری لنکن ٹیم کو بچانےوالے ڈرائیور کو شاندار انعام مل گیا

سری لنکن ٹیم کو بچانےوالے ڈرائیور کو شاندار انعام مل گیا

کراچی: 8 سال قبل سری لنکن کرکٹرز کی جان بچانے والے پاکستانی بس ڈرائیور مہرخلیل مستقبل میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ سری لنکا جائیں گے، انھیں اس دورے کی دعوت سری لنکن وزیر کھیل نے دی ہے۔

بس ڈرائیور مہر خلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان لاہور میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں خاص طور پر مدعو کیا تھا، اس موقع پر چیئرمین نجم سیٹھی نے ان کی ملاقات سری لنکا کے وزیر کھیل اورکرکٹ بورڈ کے چیئرمین سے بھی کرائی۔

مہر خلیل نے کہاکہ اس ملاقات کے دوران سری لنکن وزیر کھیل نے ان سے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم سری لنکا کے اگلے دورے پر آئے گی تو آپ بھی ساتھ ضرور آئیے گا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر نے مذاقاً یہ بھی کہا کہ اس دورے میں آپ کو بس ڈرائیو نہیں کرنی بلکہ مہمان کی حیثیت سے میچز ہی دیکھنے ہیں۔

ڈرائیور خلیل نے بتایا کہ میں نے سری لنکن وزیر سے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کو ضرور سپورٹ کریں گے۔ جس پر ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی ٹیم کون سی ہے جس پر ان کا جواب تھا سری لنکا۔ انھوں نے کہا کہ میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے کیلیے لاہور آنے والی سری لنکن ٹیم کی بس بھی ڈرائیو کرنا چاہتے تھے لیکن سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے پیش نظر یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ مارچ2009 میں سری لنکن ٹیم کی جس بس پر لاہور ٹیسٹ کے موقع پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اس کے ڈرائیور مہر خلیل تھے۔ انھوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بس کو جائے وقوعہ سے نکال کر قذافی اسٹیڈیم پہنچایا تھا۔ سری لنکا کی حکومت نے انھیں اسی سال کولمبو مدعو کیا جہاں انعامات سے نوازا گیا تھا جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے بھی مہر خلیل کو تمغہ شجاعت دیا جاچکا ہے،وہ کچھ عرصے اپنے کاروبار کے سلسلے میں مراکش اور جنوبی افریقہ میں بھی مقیم رہے لیکن اب دوبارہ پاکستان آچکے اور لاہور و اسلام آباد روٹ پر چلنے والی بس کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکے ہیں۔

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں