More share buttons
اپنے دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں

پیغام بھیجیں
logo
. . .
icon تابی لیکس
Latest news
ورلڈکپ کے فیصلہ کن معرکے کیلئے ٹریننگ، میسی نے سالگرہ نہیں منائی ٹی20 میں کوئی ٹیم کمزور نہیں ہوتی، سہ ملکی سیریز آسان نہیں، سرفراز کرکٹ ایشیا کپ ‘ پاکستان اور بھارت کا ٹکراؤ 21 ستمبر کومتوقع پاکستان، متحدہ عرب امارات کرکٹ بورڈز کے درمیان مذاکرات کا کامیاب، معاوضوں میں کمی پر رضامند ی سی بی کے مطابق زمبابوے کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی۔ کھلاڑیوں میں فخرزمان، امام الحق، محمد حفیظ، شعیب ملک، بابر اعظم، آصف علی، سرفراز احمد، محمد نواز، شاداب خان، جنید خان، فہیم اشرف، محمد عامر، عثمان خان شنواری، یاسر شاہ ، حسن علی اور حارث سہیل شامل ہوں گے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد احمد شہزاد کو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے ڈراپ کردیا گیا۔ ٹی ٹوئنٹی ٹرائی انگیولر سیریز میں فخر زمان، محمد حفیظ، شعیب ملک، آصف علی، حسین طلعت، سرفراز احمد، حارث سہیل، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، محمد عامر، حسن علی اور عثمان شنواری کو شامل کیا گیا ہے۔ سری لنکا سے مقابلے، جنوبی افریقی اسپنر عمران طاہر کو نظر انداز کردیا گیا قومی ہاکی ٹیم نے آسٹریا کیخلاف سیریز 0-2 سے جیت لی

گوتھم گھمبیر مہندر سنگھ دھونی کے حق میں میدان میں آ گئے 

گوتھم گھمبیر مہندر سنگھ دھونی کے حق میں میدان میں آ گئے 

گوتھم گھمبیر مہندر سنگھ دھونی کے حق میں میدان میں آ گئے

کولکتہ: کولکتہ نائٹ رائیڈر ٹیم کے کپتان گوتھم گھمبیر سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کے حق میں بول پڑے ۔ گھمبیر نے کہا کہ ہمیں دھونی کو کریڈٹ دینا چاہیئے جس طرح انہوں نے ایک کمزور ٹیم کو دنیا کی نمبر ون ٹیم بنا دیا ۔ 

یاد رہے کہ سابق بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کو نیوزی لینڈ کیخلاف دوسرے ٹی 20 میچ میں سلو بیٹنگ کرنے کی وجہ سے خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بھارتی بلے باز وی وی ایس لکشمن نے کہا کہ بھارتی بورڈ کو اب دھونی کی جگہ نوجوان کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا چاہیئے ۔ جس کے جواب میں گھمبیر نے کہا کہ دھونی ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو کسی بھی مشکل صورتحال میں ٹیم کو سنبھال سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ٹیم اچھا کھیل رہی ہو تو پھر اس کی کپتانی کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن جب ناکام ٹیم کی قیادت کرنا پڑتی تو پھر اصل امتحان ہوتا ہے اور دھونی اس امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں ۔خاص طور پر اس وقت جب 2011۔12 میں جب ہم آسٹریلیا اور انگلینڈ میں جب ہمیں چار صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں سارو گنگولی ، راہول ڈریورڈ ،وریندر سہواگ اور ددھونی کی قیادت میں میچز کھیلے لیکن جو مزا دھونی کے زیرِ قیادت کھیلنے کا آیا وہ کسی اور کی قیادت میں کھیلنے کا مزہ نہیں آیا۔

adds

اپنی رائے کا اظہار کریں